خیبرپختونخوا کو درپیش امن و امان، مہنگائی اور دیگر سنگین مسائل کے دوران عوامی نیشنل پارٹی نے وزیراعلیٰ محمد سہیل آفریدی کی صوبے سے غیر موجودگی پر سوال اٹھا دیا۔ اے این پی کے صوبائی ترجمان ارسلان خان ناظم نے حکومت پر زور دیا ہے کہ وہ سیاسی سرگرمیوں کے بجائے صوبے کے انتظامی اور عوامی مسائل پر توجہ دے۔
جمعرات کو جاری بیان میں ارسلان خان ناظم نے کہا کہ خیبرپختونخوا اس وقت دہشت گردی، پولیس اہلکاروں کی قربانیوں، مہنگائی اور عدم تحفظ جیسے سنگین مسائل سے دوچار ہے، جبکہ صوبائی حکومت سیاسی سرگرمیوں میں مصروف دکھائی دے رہی ہے۔
اے این پی ترجمان نے الزام عائد کیا کہ وزیراعلیٰ زیادہ وقت اسلام آباد میں گزار رہے ہیں اور صوبائی اجلاسوں میں آن لائن شرکت کرتے رہے ہیں، جبکہ اب وہ کابینہ کے ارکان کے ہمراہ سندھ کے دورے پر ہیں۔
انہوں نے سوال اٹھایا کہ ایسے حالات میں سیاسی سرگرمیوں کو انتظامی ذمہ داریوں پر ترجیح کیوں دی جا رہی ہے۔ ان کے مطابق صوبائی حکومت چلانا ہمہ وقت توجہ اور وزیراعلیٰ کی موجودگی کا تقاضا کرتا ہے۔
ارسلان خان ناظم نے کہا کہ خیبرپختونخوا کے عوام حکومت سے اپنے مسائل کے حل، امن کی بحالی، پولیس اہلکاروں کے تحفظ اور صوبے کے حقوق کے تحفظ کی توقع رکھتے ہیں۔
انہوں نے الزام عائد کیا کہ صوبائی معاملات سیاسی ترجیحات کے باعث ثانوی حیثیت اختیار کر چکے ہیں اور صوبائی قیادت پر زور دیا کہ وہ حکمرانی اور عوامی فلاح پر توجہ مرکوز کرے۔