نیپال میں سیلاب کی تباہی، وادی میں زندگی کے آثار تک مٹ گئے
رسوا: نیپال میں تباہ کن سیلاب کے آٹھ روز بعد بھی تباہی کے آثار خوفناک منظر پیش کر رہے ہیں، تریشولی دریا کی وادی کا وسیع علاقہ ملبے، کیچڑ اور بڑے پتھروں میں تبدیل ہوچکا ہے جبکہ ہائیڈرو پاور پلانٹس میں پھنسے سیکڑوں افراد تک رسائی کے لیے امدادی کارروائیاں جاری ہیں۔
فضائی منظر سے تریشولی دریا کی وادی ایک سنسان اور خاکستری میدان دکھائی دیتی ہے، جہاں کہیں زمین کنکریٹ کی طرح سخت ہوچکی ہے تو کہیں گیلی اور پھسلن زدہ مٹی نے راستے بند کر رکھے ہیں۔ کئی علاقوں میں انسانی آبادی کے کوئی واضح آثار بھی دکھائی نہیں دیتے۔
Upper Trishuli 3A ہائیڈرو پاور پلانٹ کے قریب امدادی کارکن سرنگ کے دہانے سے بڑے بڑے پتھر ہٹانے میں مصروف ہیں۔ بھاری مشینری کے ذریعے ملبہ صاف کیا جا رہا ہے تاہم سرنگ کا راستہ انتہائی تنگ ہونے کے باعث امدادی کارکنوں کو اندر جانے کے لیے رینگ کر گزرنا پڑ رہا ہے۔
حکام کے مطابق نیپال میں تقریباً 900 افراد چھ ہائیڈرو پاور پلانٹس کے اندر پھنسے ہوئے ہیں۔ گزشتہ ہفتے گلیشیئر کے ٹوٹنے سے پہاڑی وادیوں میں کیچڑ، چٹانوں اور پانی کا ایک بڑا ریلا آیا تھا، جس کے نتیجے میں 1200 سے زائد افراد ہلاک ہوئے۔
Upper Trishuli 3A میں موجود دیگر کارکن سرنگ کے اندر جمع پانی نکالنے اور بڑے پتھروں کو توڑنے کے لیے کنٹرولڈ دھماکوں کی تیاری میں مصروف ہیں، تاکہ بھاری مشینری کو سرنگ کے مزید اندر لے جایا جاسکے۔
سیلاب سے متاثرہ سیابروبسی نامی گاؤں، جو ماضی میں ہمالیائی ٹریکنگ کے لیے اہم راستہ سمجھا جاتا تھا، اب مٹی اور ملبے کی تہہ میں دب چکا ہے۔ علاقے میں موجود متعدد عمارتوں میں سے صرف چند ہی باقی رہ گئی ہیں۔
تباہی کا منظر اس قدر شدید ہے کہ متاثرہ علاقے میں زندگی کے نمایاں آثار دکھائی نہیں دیتے۔ تریشولی دریا کے دونوں جانب بلند پہاڑوں پر بنے نشانات سے اندازہ ہوتا ہے کہ سیلابی پانی معمول کی سطح سے تقریباً 500 میٹر تک بلند ہوا ہوگا۔
چین اور نیپال کے درمیان واقع گیئرونگ بارڈر گیٹ پر بھی تباہی کے آثار نمایاں ہیں۔ نگرانی کی ویڈیو میں مٹی کے تودے کی زد میں آنے سے چند لمحے قبل لوگوں کو سرحدی گزرگاہ سے نکلنے کی کوشش کرتے دیکھا گیا تھا، جبکہ بعد میں وہاں امدادی کارکن اور بھاری مشینری موجود دکھائی دی۔
تاہم سیلاب اور مٹی کے تودے نے علاقے میں تقریباً کچھ بھی باقی نہیں چھوڑا، نہ عمارتیں، نہ سرحدی گیٹ اور نہ ہی پل، جس سے قدرتی آفت کی شدت کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔