اسلام آباد: نیپال میں تباہ کن سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ سے ہونے والی جانی و مالی تباہی پر پاکستان نے مشکل کی اس گھڑی میں نیپالی عوام کے ساتھ کھڑے ہونے کا عملی پیغام دے دیا، وزیراعظم شہباز شریف نے اسلام آباد میں نیپال کے سفارتخانے کا دورہ کرکے متاثرین اور ان کے اہل خانہ سے تعزیت کی اور متاثرہ علاقوں کے لیے ہنگامی امدادی سامان بھجوانے کا اعلان کیا۔
وزیراعظم شہباز شریف جمعرات کو نیپال کے سفارتخانے پہنچے جہاں انہوں نے تعزیتی رجسٹر میں اپنے تاثرات درج کیے اور قدرتی آفت کے نتیجے میں ہونے والے جانی نقصان اور تباہی پر گہرے دکھ کا اظہار کیا۔
نیپال کی پاکستان میں سفیر ریتا دھیتال نے وزیراعظم کا استقبال کیا۔ اس موقع پر وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ، سیکریٹری خارجہ آمنہ بلوچ، وزیراعظم کے معاون خصوصی طارق فاطمی اور دیگر اعلیٰ حکام بھی وزیراعظم کے ہمراہ تھے۔
وزیراعظم شہباز شریف نے نیپالی سفیر سے ملاقات کے دوران یقین دلایا کہ پاکستان انسانی بحران کی اس صورتحال میں خاموش تماشائی نہیں رہے گا۔ انہوں نے اعلان کیا کہ پاکستان کی جانب سے ہنگامی امدادی سامان رواں ہفتے کے دوران آفت سے متاثرہ علاقوں میں بھجوایا جائے گا تاکہ جاری امدادی، بحالی اور ریسکیو سرگرمیوں میں مدد مل سکے۔
شہباز شریف نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان مشکل کی اس گھڑی میں نیپال کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑا ہے۔ انہوں نے نیپال کے وزیراعظم بالیندر شاہ سے حالیہ ٹیلی فونک گفتگو کے دوران بھی پاکستان کی جانب سے یکجہتی کے اظہار کا حوالہ دیا۔
وزیراعظم نے نیپالی عوام کے عزم اور حوصلے پر اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ نیپال اس سانحے سے بالآخر مضبوطی کے ساتھ نکلے گا۔ انہوں نے پاکستان اور نیپال کے دیرینہ برادرانہ تعلقات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ مشکل وقت میں پاکستان نیپال کے ساتھ اپنی حمایت جاری رکھے گا۔
نیپال کی سفیر ریتا دھیتال نے وزیراعظم شہباز شریف کے اظہارِ یکجہتی اور انسانی ہمدردی پر پاکستان کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ مشکل کی گھڑی میں پاکستان کی جانب سے دوستی اور تعاون کا یہ اظہار نیپالی عوام یاد رکھیں گے۔
سفیر نے وزیراعظم کو پاکستان اور نیپال کے درمیان دوطرفہ تعاون کی موجودہ صورتحال اور مختلف شعبوں میں جاری مشترکہ اقدامات سے بھی آگاہ کیا۔