پاکستان، ترکیہ اور سعودی عرب دفاعی معاہدے کے تحت مشترکہ نظام بنائیں گے
انقرہ — پاکستان، ترکیہ اور سعودی عرب نے بدلتے ہوئے علاقائی حالات کے تناظر میں دفاعی تعاون کو مزید منظم اور مؤثر بنانے کا فیصلہ کیا ہے۔ ترکیہ کی وزارت دفاع کے مطابق تینوں ممالک حالیہ دفاعی معاہدے کے تحت سیاسی اور عسکری رابطے کے مستقل نظام قائم کریں گے، جس میں اعلیٰ سطحی قیادت کے درمیان باقاعدہ مشاورت اور مشترکہ فوجی سرگرمیوں کو فروغ دیا جائے گا۔
ترکیہ کی وزارت دفاع نے بتایا کہ نئے رابطہ نظام میں تینوں ممالک کے وزرائے دفاع، وزرائے خارجہ اور عسکری سربراہان شامل ہوں گے۔ اس انتظام کا مقصد دفاعی اور سیاسی معاملات میں باہمی رابطہ بڑھانا اور علاقائی سلامتی سے متعلق اہم امور پر مشترکہ حکمت عملی کو فروغ دینا ہے۔
تینوں ممالک نے گزشتہ ہفتے مکہ مکرمہ میں مشترکہ دفاعی معاہدے پر دستخط کیے تھے، جس کے تحت باہمی دفاعی تعاون کو مزید وسعت دینے پر اتفاق کیا گیا۔ یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب مشرق وسطیٰ میں کشیدگی اور علاقائی سلامتی کے خدشات میں اضافہ ہوا ہے۔
ترکیہ کے مطابق معاہدے کے تحت تینوں ممالک کے درمیان بری، بحری، فضائی اور سائبر شعبوں میں مشترکہ فوجی مشقوں کا انعقاد بھی کیا جائے گا۔ اس کے علاوہ بغیر پائلٹ نظام، برقی جنگی صلاحیتوں اور مصنوعی ذہانت جیسے جدید دفاعی شعبوں میں تعاون بڑھانے پر بھی توجہ دی جائے گی۔
دفاعی صنعت کے شعبے میں بھی تینوں ممالک کے درمیان تعاون بڑھانے کا منصوبہ ہے، جس میں مشترکہ تحقیق، دفاعی سازوسامان کی تیاری اور جدید ٹیکنالوجی کے تبادلے کو فروغ دینا شامل ہے۔ اس تعاون سے تینوں ممالک کی دفاعی صنعتی صلاحیتوں کو مزید مربوط کرنے کی کوشش کی جائے گی۔
ترکیہ نے واضح کیا ہے کہ یہ معاہدہ پہلے سے موجود دفاعی اتحادوں کا متبادل نہیں بلکہ باہمی تعاون کو مزید مضبوط بنانے کی کوشش ہے۔ انقرہ کے مطابق مستقبل میں دوسرے ممالک کے لیے بھی اس تعاون میں شامل ہونے کی گنجائش موجود ہے اور مصر کا نام ممکنہ طور پر شامل ہونے والے ممالک میں لیا گیا ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق پاکستان، ترکیہ اور سعودی عرب کے درمیان بڑھتا ہوا دفاعی تعاون تینوں ممالک کو علاقائی سلامتی کے معاملات میں زیادہ قریبی رابطے کا موقع فراہم کرسکتا ہے۔ پاکستان کی دفاعی صلاحیت، ترکیہ کی جدید دفاعی ٹیکنالوجی اور سعودی عرب کی معاشی و تزویراتی اہمیت اس تعاون کو مزید اہم بنا رہی ہے۔