نئی جنگ ہوئی تو ایران پہلے سے زیادہ جارحانہ انداز اپنائے گا، پاسداران انقلاب
تہران — ایران نے کسی نئی جنگ کی صورت میں پہلے سے زیادہ سخت اور جارحانہ ردعمل دینے کا عندیہ دے دیا ہے۔ پاسداران انقلاب کے سینیئر عہدے دار رسول سنائی راد نے خبردار کیا ہے کہ اگر دوبارہ جنگ مسلط کی گئی تو ایران زیادہ مضبوطی اور جارحانہ انداز میں کارروائی کرے گا، جبکہ ایرانی فوج کے ایک اعلیٰ عہدے دار نے بھی ملک کو طویل جنگ کے لیے تیار قرار دیا ہے۔
فارس نیوز ایجنسی کے مطابق پاسداران انقلاب کے سینیئر عہدے دار رسول سنائی راد نے کہا کہ اگر ایران کو ایک نئی جنگ کا سامنا کرنا پڑا تو اس مرتبہ اس کا ردعمل پہلے سے زیادہ مضبوط اور جارحانہ ہوگا۔
رسول سنائی راد نے الزام عائد کیا کہ دشمن ایران میں اندرونی اختلافات اور معاشی دباؤ کو بڑھا کر جنوری میں پیش آنے والے واقعات کو دوبارہ دہرانے کی کوشش کررہا ہے۔ ان کے مطابق ایران کو اس طرح کے ممکنہ حالات سے نمٹنے کے لیے محتاط رہنے کی ضرورت ہے۔
انہوں نے کہا کہ دشمن یہ سمجھتا ہے کہ داخلی مسائل اور معاشی مشکلات کے ذریعے ایران پر دباؤ بڑھایا جاسکتا ہے، تاہم تہران ان کوششوں کے مقابلے کے لیے اپنی حکمت عملی برقرار رکھے گا۔
دوسری جانب ایران کی فوج کے ایگزیکٹو نائب سربراہ علی رضا شیخ نے بھی ایک روز قبل ایران کی جنگی تیاریوں سے متعلق سخت بیان دیا تھا۔ انہوں نے کہا تھا کہ ایران طویل جنگ اور مسلسل فوجی آپریشنز کے لیے تیار ہے۔
علی رضا شیخ کے مطابق ایران کی دفاعی حکمت عملی اب صرف اپنے دفاع تک محدود نہیں رہی بلکہ اس میں ایسے فعال اقدامات بھی شامل ہوگئے ہیں جن کا مقصد دشمن کو مستقبل میں حملہ کرنے سے روکنا ہے۔
ایرانی فوجی عہدے دار نے مزید کہا کہ ایران کی میزائل اور ڈرونز کی پیداواری صلاحیت ملک کو طویل عرصے تک اپنی فوجی کارروائیاں جاری رکھنے کی استعداد فراہم کرتی ہے۔
ایرانی حکام کے حالیہ بیانات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب خطے میں پہلے ہی کشیدگی اور باہمی فوجی خطرات کے باعث صورتحال انتہائی حساس ہے۔ ایران کی جانب سے نئی جنگ کی صورت میں زیادہ سخت ردعمل کے بیانات خطے میں جاری کشیدگی کے تناظر میں خاص اہمیت رکھتے ہیں۔