تازہ ترین

ایبولا کی وبا قابو سے باہر ہوئی تو خطرناک نتائج ہوسکتے ہیں، ڈبلیو ایچ او

0

عالمی ادارۂ صحت نے جمہوریہ کانگو میں تیزی سے پھیلتی ایبولا وبا پر خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے، ڈبلیو ایچ او نے خبردار کیا ہے کہ اگر وائرس کی موجودہ رفتار کو فوری طور پر نہ روکا گیا تو صورتحال ماضی کی تباہ کن ایبولا وباؤں سے بھی زیادہ سنگین ہوسکتی ہے۔ عالمی ادارے نے آئندہ چند ماہ کو وبا پر قابو پانے کے لیے انتہائی اہم قرار دیتے ہوئے فوری اور مؤثر اقدامات پر زور دیا ہے۔

ڈبلیو ایچ او کے ڈائریکٹر جنرل ٹیڈروس ادھانوم گیبریئسس کے مطابق موجودہ صورتحال میں وائرس کی منتقلی کو محدود کرنا اولین ترجیح ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر وائرس اسی رفتار سے پھیلتا رہا تو ماضی میں سامنے آنے والی بڑی ایبولا وباؤں کے مقابلے میں زیادہ تباہ کن صورتحال پیدا ہونے کا خدشہ ہے۔

رپورٹس کے مطابق کانگو میں رواں سال ایبولا کی وبا کا باضابطہ اعلان 15 مئی کو کیا گیا تھا۔ اس کے بعد سے وائرس کے ہزاروں کیسز سامنے آچکے ہیں، جبکہ 2 ہزار سے زائد اموات رپورٹ ہونے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔

عالمی ادارۂ صحت کے مطابق آئندہ تین ماہ کے دوران وائرس کی منتقلی کی رفتار کم کرنے کے لیے کوششیں مزید تیز کی جارہی ہیں۔ تاہم ڈبلیو ایچ او نے واضح کیا ہے کہ وبا کے پھیلاؤ کو قابو میں لانا وائرس کے مکمل خاتمے کی ضمانت نہیں ہوگا، اس لیے مسلسل نگرانی اور احتیاطی اقدامات ضروری رہیں گے۔

حکام کے مطابق دستیاب شواہد سے اندازہ ہوتا ہے کہ ایبولا وائرس کا پھیلاؤ اس کے باضابطہ اعلان سے کئی ماہ قبل شروع ہوگیا تھا۔ ابتدائی مرحلے میں بعض مریضوں کی علامات کو ملیریا یا ٹائیفائیڈ سے منسوب کیے جانے کے باعث بیماری کی بروقت تشخیص میں مشکلات پیش آئیں، جس سے وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کی کوششیں متاثر ہوئیں۔

ڈبلیو ایچ او کے افریقہ ریجن سے وابستہ حکام نے بھی صورتحال کو تشویشناک قرار دیا ہے۔ ان کے مطابق صحت کے ادارے وائرس کے پھیلاؤ کا مسلسل سراغ لگا رہے ہیں، تاہم تیزی سے بڑھتی ہوئی منتقلی صحت کے نظام کے لیے ایک بڑا چیلنج بنی ہوئی ہے۔

رواں سال سامنے آنے والی ایبولا وبا بنڈیبوجیو وائرس کی قسم سے منسلک ہے۔ یہ وائرس کی وہ قسم ہے جو ماضی میں بھی مختلف وباؤں کا سبب بن چکی ہے، جبکہ موجودہ صورتحال میں طبی ماہرین کو محدود وسائل کے ساتھ بیماری کی روک تھام اور متاثرہ افراد کے علاج کا چیلنج درپیش ہے۔

عالمی ادارۂ صحت کے مطابق وائرس کی اس قسم سے نمٹنے کے لیے دستیاب طبی سہولیات، حفاظتی اقدامات اور وبا کی نگرانی کے نظام کو مؤثر انداز میں استعمال کرنا انتہائی اہم ہے۔ ماہرین کے مطابق متاثرہ افراد کی بروقت شناخت، مریضوں کو مناسب طبی نگہداشت کی فراہمی اور وائرس سے متاثرہ افراد سے رابطے میں آنے والوں کی نگرانی وبا کے پھیلاؤ کو محدود کرنے میں اہم کردار ادا کرسکتی ہے۔

ڈبلیو ایچ او نے اس صورتحال کے پیش نظر صحت کے اداروں اور متعلقہ حکام پر زور دیا ہے کہ ایبولا کے خلاف کارروائی میں تاخیر نہ کی جائے، کیونکہ وائرس کی تیز رفتار منتقلی کو ابتدائی مرحلے میں روکنا ہی بڑے انسانی نقصان سے بچنے کا مؤثر ذریعہ ہوسکتا ہے۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.