غزہ میں فلسطینی بچوں کی پتنگ بازی اسرائیلیوں کیلئے خوف کی علامت بن گئی
غزہ: جنگ اور تباہی کے باعث پہلے ہی معمول کی زندگی سے محروم غزہ کے بچوں کیلئے تفریح کا ایک اور راستہ بھی بند ہونے لگا ہے۔ اسرائیلی دھمکیوں کے بعد مقامی سماجی و فلاحی تنظیموں پر مشتمل کمیٹیوں نے والدین سے اپیل کی ہے کہ وہ بچوں کو پتنگیں اڑانے سے روکیں تاکہ کسی ممکنہ خطرے سے ان کی جانیں محفوظ رکھی جاسکیں۔
مقامی کمیٹیوں کے مطابق بچوں کو کھیل سے روکنے کا مقصد ان کی آزادی محدود کرنا نہیں بلکہ انہیں ممکنہ خطرات سے بچانا ہے، کیونکہ غزہ کے بچے پہلے ہی محفوظ زندگی اور کھیلنے کے بنیادی حق سے محروم ہوچکے ہیں۔
یہ فیصلہ اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کی جانب سے دی گئی اس دھمکی کے بعد سامنے آیا جس میں کہا گیا تھا کہ غزہ سے اسرائیل کی جانب پتنگیں، غبارے یا ڈرون بھیجنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی اور متعلقہ علاقوں کو خالی کرانے کے احکامات بھی دیے جاسکتے ہیں۔
غزہ سٹی کی ایک والدہ نے بتایا کہ اس کا 10 سالہ بیٹا ہر موسم گرما میں گلی کے دیگر بچوں کے ساتھ پتنگ اڑاتا تھا، تاہم موجودہ صورتحال کے باعث خوف نے اسے اپنے بیٹے کو پتنگ اڑانے کی اجازت دینے سے روک دیا ہے۔
اسرائیل کا مؤقف ہے کہ سرحد کی جانب جانے والی پتنگیں سیکیورٹی خدشات پیدا کر رہی ہیں، جبکہ حماس نے اسرائیل پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ جنگی کارروائیوں کیلئے نئے جواز تلاش کر رہا ہے۔
مقامی کمیٹیوں کا کہنا ہے کہ غزہ کے بچوں کو پہلے ہی جنگ کے باعث گھر، اسکول اور محفوظ ماحول سمیت زندگی کی بنیادی سہولیات سے محرومی کا سامنا ہے، ایسے میں ان کی معمولی خوشیوں کا بھی چھن جانا ایک انتہائی تلخ حقیقت ہے۔
یوں غزہ میں جنگ کے سائے نے بچوں کی زندگی سے ایک اور سادہ سی خوشی چھین لی ہے اور اب پتنگ اڑانا بھی ان کیلئے خوف اور خطرے سے خالی نہیں رہا۔