تازہ ترین

سندھ تقسیم نہیں ہوگا، کراچی کے مسائل حل کیے جائیں: اسمبلی میں آوازیں

0

کراچی: سندھ اسمبلی میں نئے انتظامی یونٹس کے قیام کے معاملے پر مسلسل تیسرے روز بھی بحث جاری رہی، جس کے دوران حکومتی اور اپوزیشن ارکان نے سندھ کی علاقائی وحدت کے تحفظ کی حمایت کی، تاہم کراچی کے مسائل، اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی، کرپشن کے خاتمے اور بہتر انتظامی نظام کیلئے اصلاحات کی ضرورت پر زور دیا گیا۔

بحث سینئر پیپلز پارٹی رہنما نثار احمد کھوڑو کی جانب سے پیش کی گئی تحریک التوا پر ہوئی، جس کی صدارت ڈپٹی اسپیکر نوید انتھونی نے کی۔ اجلاس کے دوران ’’انتظامی یونٹس‘‘ کی اصطلاح کے مفہوم پر حکومت اور ایم کیو ایم کے ارکان کے درمیان واضح اختلاف سامنے آیا۔

پیپلز پارٹی کے ارکان نے سندھ کی حدود میں کسی بھی تبدیلی کی مخالفت کی جبکہ متحدہ قومی موومنٹ (MQM) کے ارکان نے بار بار واضح کیا کہ ان کا مطالبہ سندھ کی تقسیم نہیں بلکہ بہتر طرز حکمرانی کیلئے مضبوط انتظامی انتظامات کا قیام ہے۔

صوبائی وزیر جامعات اسماعیل راہو نے سندھ کی تقسیم سے متعلق بحث پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ انتظامی یونٹس کا مطالبہ کرنے والوں کو واضح کرنا چاہیے کہ ان کی مراد کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سندھ کسی بھی صورت تقسیم قبول نہیں کرے گا۔

صوبائی وزیر کھیل و زراعت سردار محمد بخش مہر نے کہا کہ نئے صوبوں کا مطالبہ کرنے والوں کو سندھ کی تاریخ اور آئین کا مکمل ادراک نہیں۔ ان کے مطابق سندھ کے مستقبل پر بات کرتے ہوئے صوبے کی تاریخ کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔

انہوں نے کہا کہ سندھ کو جب بھی خطرہ لاحق ہوگا، ہر سندھی اس کے دفاع کیلئے کھڑا ہوگا۔

صوبائی وزیر صنعت جام اکرام اللہ دھاریجو نے بھی سندھ کی وحدت پر پیپلز پارٹی کے مؤقف کو دہراتے ہوئے کہا کہ پارٹی سندھ کی سالمیت پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گی۔ انہوں نے کراچی کو سندھ کا ناقابلِ تقسیم حصہ قرار دیا۔

تاہم جماعت اسلامی کے رکن محمد فاروق نے کہا کہ سندھ کا دفاع کرنے کا مطلب کراچی کے مسائل کو نظر انداز کرنا نہیں ہونا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ کراچی صرف ٹیکس جمع کرنے والا شہر نہیں بلکہ بڑی معاشی آمدن پیدا کرتا ہے، اس لیے حکومت کو کرپشن کے خاتمے اور عوام کو ان کے حقوق دینے پر توجہ دینی چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ لوگوں کی آواز محض بحث کے ذریعے خاموش نہیں کی جاسکتی، بلکہ ان مسائل کو حل کرنا ہوگا جن کی وجہ سے کراچی کے عوام اپنی آواز بلند کرنے پر مجبور ہیں۔

ایم کیو ایم کی رکن قرۃ العین نے کہا کہ ان کی جماعت سندھ کو توڑنے کا مطالبہ نہیں کر رہی بلکہ انتظامی یونٹس کے قیام کی بات کر رہی ہے۔ انہوں نے ترکیہ کی 81 صوبوں اور امریکا کی 50 ریاستوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ تقریباً 25 کروڑ آبادی والے پاکستان میں صرف چار صوبے ہیں۔

انہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ نئے انتظامی یونٹس سے نظام بہتر بنانے میں مدد ملے گی۔ ایم کیو ایم کے ارکان فرحان انصاری اور کرن مسعود نے بھی کہا کہ ان کی جماعت نے کبھی سندھ کی تقسیم کا مطالبہ نہیں کیا۔

فرحان انصاری نے کہا کہ ایم کیو ایم کے ارکان بھی اتنے ہی سندھی اور پاکستانی ہیں جتنے اسمبلی کے دیگر ارکان، جبکہ کرن مسعود نے کہا کہ پاکستان کی بڑھتی ہوئی آبادی کے باعث مزید انتظامی یونٹس کی ضرورت ہے۔

پیپلز پارٹی کے ارکان نے اس مؤقف کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ انتظامی یونٹس کا مطالبہ سندھ کی وحدت کے معاملے سے الگ نہیں کیا جاسکتا۔ پیپلز پارٹی کے ہالار وسان نے کہا کہ کراچی سندھ کا لازمی حصہ ہے اور صوبے میں کوئی نیا صوبہ نہیں بنایا جائے گا۔

پیپلز پارٹی کی رکن ہیر سوہو نے یاد دلایا کہ سندھ اسمبلی پہلے ہی صوبے کی تقسیم کے خلاف آٹھ قراردادیں منظور کرچکی ہے اور سندھ کی وحدت پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوسکتا۔

سردار خان چانڈیو نے دعویٰ کیا کہ سندھ کے 90 فیصد عوام نئے صوبوں کے تصور کو مسترد کرچکے ہیں۔ انہوں نے لسانی بنیادوں پر تقاریر کرنے والوں کے خلاف قانون سازی کا مطالبہ بھی کیا، جس پر ایم کیو ایم ارکان نے اعتراض کیا۔

بحث کے دوران سیاسی مفادات اور کرپشن کے حوالے سے بھی تلخ جملوں کا تبادلہ ہوا۔ ایم کیو ایم کے عبداللہ شیخ نے الزام عائد کیا کہ کرپشن سے توجہ ہٹانے کیلئے ریلیاں منعقد کرکے لوگوں کو اشتعال دلایا جارہا ہے۔

ایم کیو ایم کے راشد خان نے پیپلز پارٹی پر اپنی ناکامیوں کو چھپانے کیلئے ’’سندھ کارڈ‘‘ استعمال کرنے اور سندھی و اردو بولنے والی برادریوں کے درمیان کشیدگی پیدا کرنے کا الزام لگایا۔

پیپلز پارٹی کے نادر مگسی نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ سندھ کو نشانہ بنایا جارہا ہے اور صوبے میں بلوچستان جیسی صورتحال پیدا کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پانچ کروڑ سندھی سندھ کو تقسیم نہیں ہونے دیں گے اور کراچی سندھ ہے، سندھ کراچی ہے۔

پیپلز پارٹی کے ارکان نے اس بات پر بھی زور دیا کہ سندھ نے ہمیشہ مختلف پس منظر رکھنے والے لوگوں کو قبول کیا ہے۔ نثار احمد کھوڑو نے کہا کہ انہیں اردو بولنے پر فخر ہے اور وہ سندھ کی مٹی کے بیٹے بھی ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ سندھ سے متعلق کوئی فیصلہ اسمبلی سے باہر نہیں کیا جائے گا۔

پیپلز پارٹی کے جام مہتاب ڈہر نے معاملے پر نسبتاً مختلف مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا کہ ارکان کو صوبے کی تقسیم کی بحث کے بجائے موجودہ صوبائی اور انتظامی نظام کو بہتر بنانے پر توجہ دینی چاہیے۔ ان کے مطابق اتفاقِ رائے اور قانون سازی کے ذریعے قوانین میں بہتری لائی جاسکتی ہے۔

پی ٹی آئی کے رکن بلال حسین خان جدون نے کہا کہ ملک میں آئین اور قانون کی بالادستی کا مسئلہ موجود ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان کی جماعت وفاق اور صوبوں دونوں کو مضبوط دیکھنا چاہتی ہے اور سندھ کے مستقبل کا فیصلہ عوام کی خواہشات کے مطابق ہونا چاہیے۔

متعدد پیپلز پارٹی ارکان نے مطالبہ کیا کہ موجودہ قرارداد سندھ کی تقسیم سے متعلق آخری قرارداد ہونی چاہیے۔ سعدیہ جاوید نے کہا کہ ایسے معاملات کیلئے منتخب اسمبلیاں درست فورم ہیں، نہ کہ ٹی وی ٹاک شوز اور کانفرنسیں۔

مروی راشدی نے کہا کہ اسمبلی سندھ کا دفاع کر رہی ہے اور نئے صوبوں کا مطالبہ کرنے والوں کو ’’خوش فہمی کی دنیا میں رہنے والا‘‘ قرار دیا۔

بحث کے دوران متنازعہ جناح پور واقعے کا بھی ذکر آیا۔ پیپلز پارٹی کے سورندر ولاسائی نے ماضی کے تنازعے کا حوالہ دیتے ہوئے ایم کیو ایم کی تشکیل سے متعلق الزام عائد کیا، جبکہ ایم کیو ایم کے رانا شوکت نے جنرل پرویز مشرف کے دور کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس وقت انتظامی اختیارات ڈویژنوں اور اضلاع تک منتقل کیے گئے تھے، تاہم سندھ کو تقسیم نہیں کیا گیا تھا۔

اجلاس میں مجموعی طور پر اس بات پر زور دیا گیا کہ سندھ کی وحدت برقرار رکھتے ہوئے انتظامی نظام کو بہتر بنایا جائے، اختیارات نچلی سطح تک منتقل کیے جائیں اور کراچی سمیت صوبے کے عوامی مسائل کے حل کیلئے مؤثر اقدامات کیے جائیں۔ رپورٹ فائل ہونے تک بحث جاری تھی۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.