سینڈمن اسپتال میں اربوں کی بے ضابطگیاں، پی اے سی کا نیب ریفرنس کا انتباہ
کوئٹہ: سینڈمن پراونشل اسپتال کوئٹہ کے مالی معاملات میں سنگین بے ضابطگیوں اور کروڑوں روپے کی ادویات کے غائب ہونے کے معاملے نے بلوچستان اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کو شدید برہم کردیا۔ کمیٹی نے محکمہ صحت کو دونوں آڈٹ پیراز کا مکمل ریکارڈ فراہم کرنے کے لیے 15 روز کی مہلت دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ ناکامی کی صورت میں معاملہ نیب کو بھیجنے اور مقدمات درج کرانے کی سفارش کی جائے گی۔
بلوچستان اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کا اجلاس چیئرمین اصغر علی ترین کی زیر صدارت ہوا، جس میں سینڈمن پراونشل اسپتال کوئٹہ کے مالی سال 2022-23 کے اسپیشل آڈٹ پیراز کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں ارکان اسمبلی فضل قادر مندوخیل، محمد خان لہڑی، صفیہ فضل، رحمت صالح بلوچ اور ولی محمد نورزئی سمیت متعلقہ حکام نے شرکت کی۔
چیئرمین کمیٹی نے محکمہ صحت کی کارکردگی پر سخت تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ ڈیڑھ سال سے محکمہ پی اے سی کو اہمیت نہیں دے رہا اور صرف زبانی جمع خرچ سے کام چلایا جا رہا ہے۔ انہوں نے اس رویے کو کمیٹی کے آئینی و قانونی اختیارات کی توہین قرار دیا۔
اجلاس میں 30.016 ملین روپے مالیت کی ادویات کی غیر قانونی خریداری کا معاملہ بھی زیر بحث آیا۔ آڈٹ حکام کے مطابق ادویات کی سپلائی کا آرڈر پشاور کی ایک فرم کے نام جاری کیا گیا، جبکہ ادائیگی کوئٹہ کی دوسری کمپنی کو کی گئی۔
محکمے کی جانب سے ڈی اے سی اجلاس میں مؤقف اختیار کیا گیا تھا کہ کوئٹہ کی کمپنی اصل مینوفیکچرر کی مجاز ڈسٹری بیوٹر تھی، تاہم آڈٹ حکام کو اس دعوے کی تصدیق کے لیے کوئی دستاویزی ثبوت، بیچ نمبرز یا ادویات کی کھیپ سے متعلق تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں۔
خصوصی آڈٹ رپورٹ میں ایک اور معاملہ سامنے آیا کہ مالی سال 2019-20 کے دوران سینڈمن اسپتال کے مرکزی اسٹور سے 22.825 ملین روپے مالیت کی ادویات غائب ہوئیں۔ فارماسسٹ انچارج کی جانب سے نشاندہی کے باوجود انتظامیہ کی طرف سے مؤثر کارروائی نہ کیے جانے کا بھی ذکر کیا گیا۔
اجلاس کے دوران اسٹاک رجسٹر میں ردوبدل اور ابتدائی و اختتامی بیلنس میں واضح تضادات کا انکشاف بھی ہوا۔ کمیٹی کو بتایا گیا کہ کرپشن کے الزامات میں معطل کیے گئے بعض اہلکار اب بھی دفتر میں حاضری لگا رہے ہیں۔
کمیٹی ارکان کے مطابق یہ ایک ہی آڈٹ پیرا پر چوتھا اجلاس ہے، جبکہ ستمبر 2025 میں بھی محکمہ صحت کو مہلت دی گئی تھی، تاہم تاحال مطلوبہ پیش رفت سامنے نہیں آئی۔
چیئرمین اصغر علی ترین نے محکمہ صحت کی کارکردگی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اربوں روپے کے بجٹ کے باوجود عوام کو مطلوبہ ریلیف نہیں مل رہا اور محکمہ صرف سوشل میڈیا اور ٹک ٹاک پر متحرک دکھائی دیتا ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ اگر 15 روز کے اندر دونوں آڈٹ پیراز کا مکمل ریکارڈ، ڈلیوری چالان، انسپیکشن رپورٹس اور تسلی بخش وضاحت پیش نہ کی گئی تو اجلاس کی کارروائی چیف سیکریٹری بلوچستان اور صوبائی اسمبلی کو ارسال کی جائے گی۔ ملوث افراد کے خلاف نیب ریفرنس اور مقدمات درج کرانے کی سفارش بھی کی جائے گی، جبکہ پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کا وقت مزید ضائع نہیں ہونے دیا جائے گا۔