وفاقی حکومت اور تحریک انصاف کے درمیان سیاسی کشیدگی کے ماحول میں وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے 27 ستمبر کے احتجاج کی کال کو پی ٹی آئی کی اندرونی سیاسی کشمکش قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ وفاق کو اس احتجاج سے کوئی خطرہ نہیں۔
خواجہ آصف نے کہا کہ وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا نے اپنی سیاسی حیثیت اور عہدہ برقرار رکھنے کے لیے احتجاج کی کال دی ہے۔ ان کے مطابق پی ٹی آئی میں اس وقت ہر شخص اپنی بقا اور مفادات کی جنگ لڑ رہا ہے۔
وزیر دفاع کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی میں چند سیاسی افراد موجود ہیں جبکہ باقی لوگ صرف احتجاج اور تصادم کی سیاست کررہے ہیں، اس لیے یہ جماعت اپنی اندرونی صورتحال کی وجہ سے خود ہی مشکلات کا شکار ہے۔
انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا نے سابق وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور سے سیاسی طور پر جان چھڑانے اور اپنی کرسی محفوظ رکھنے کے لیے 27 ستمبر کے احتجاج کی کال دی ہے۔
خواجہ آصف کے مطابق 27 ستمبر کو ہونے والا احتجاج وفاقی حکومت کے خلاف نہیں بلکہ تحریک انصاف کے اندر جاری سیاسی لڑائی کا حصہ ہے۔
وزیر دفاع نے پیپلز پارٹی کے رہنما شرجیل میمن کے بیانات پر تبصرہ کرنے سے گریز کرتے ہوئے کہا کہ وہ ان کے بیانات کا جواب نہیں دیں گے۔
انہوں نے اس تاثر کو بھی مسترد کیا کہ 27 ستمبر کے احتجاج سے وفاقی حکومت کو کوئی خطرہ لاحق ہے اور کہا کہ حکومت اس حوالے سے پُراعتماد ہے۔