تازہ ترین

وزیر خزانہ کی زیرصدارت اجلاس، SMEs، زراعت اور ہاؤسنگ فنانس میں پیش رفت کا جائزہ

0

اسلام آباد: وفاقی وزیر خزانہ و محصولات سینیٹر محمد اورنگزیب نے فنانس تک آسان اور جامع رسائی بڑھانے کے لیے اقدامات میں تیزی لانے پر زور دیا ہے۔ ان کی زیرصدارت Access to Finance Steering Committee کے چوتھے اجلاس میں ایس ایم ایز، زراعت، ہاؤسنگ، آئی ٹی، برآمدات اور قابلِ تجدید توانائی سمیت اہم شعبوں میں فنانسنگ کی صورتحال کا جائزہ لیا گیا۔

اجلاس کو بتایا گیا کہ اگست 2026 کے اختتام تک ایس ایم ای فنانسنگ 1.067 ٹریلین روپے تک پہنچ گئی ہے، جس سے 323,987 قرض لینے والے مستفید ہوئے، جبکہ مجموعی نجی ملکی ایڈوانسز میں اس کا حصہ 9.90 فیصد رہا۔

حکومت نے جون 2028 تک ایس ایم ای فنانسنگ کو 2 ٹریلین روپے اور قرض لینے والوں کی تعداد کو 775,000 تک بڑھانے کا ہدف مقرر کیا ہے، جس کے نتیجے میں نجی ملکی ایڈوانسز میں ایس ایم ای فنانسنگ کا حصہ 13 فیصد تک پہنچانے کا منصوبہ ہے۔

محمد اورنگزیب نے اہداف کے حصول کے لیے رفتار برقرار رکھنے اور بینکوں کے لحاظ سے واضح منصوبہ بندی پر زور دیا۔ انہوں نے ہول سیل ایس ایم ای فنانسنگ فریم ورک میں پیش رفت کا بھی خیرمقدم کیا، جس کا مقصد زیادہ کاروباری اداروں کو رسمی مالیاتی نظام تک رسائی دینا ہے۔

اجلاس میں بتایا گیا کہ اگست 2026 کے اختتام تک زرعی فنانسنگ 1.268 ٹریلین روپے تک پہنچ چکی ہے، جبکہ 3.39 ملین سے زائد قرض لینے والے اس سہولت سے مستفید ہو رہے ہیں۔ نجی ملکی ایڈوانسز میں زرعی فنانسنگ کا حصہ 10.90 فیصد ہے۔ حکومت نے جون 2028 تک زرعی فنانسنگ کو 2 ٹریلین روپے اور قرض لینے والوں کی تعداد کو 5.5 ملین تک بڑھانے کا ہدف مقرر کیا ہے۔

زرخیز-آسان زرعی قرضہ پروگرام کے تحت 58,919 کسان رجسٹرڈ ہوئے جبکہ 35,838 درخواستیں موصول ہوئیں۔ مجموعی طور پر 16,964 قرضے، 7.349 ارب روپے کی مالیت سے منظور کیے گئے، جبکہ 5,174 قرضے، جن کی مالیت 1.956 ارب روپے تھی، جاری کیے جا چکے ہیں۔

ہاؤسنگ فنانس کے حوالے سے وزیراعظم اپنا گھر پروگرام—گھر ہو تو اپنا کی پیش رفت کا بھی جائزہ لیا گیا۔ 4 ستمبر تک پروگرام کے تحت منظور شدہ ہاؤسنگ فنانس 351.3 ارب روپے تک پہنچ گیا، جو اگست کے اختتام کے مقابلے میں 38.3 ارب روپے یا 12 فیصد زیادہ ہے۔

پروگرام کے تحت 156,813 درخواستیں موصول ہوئیں، جن میں سے 60,349 قرضے 351.3 ارب روپے کی مالیت سے منظور ہوئے، جبکہ 9,717 قرضے، مجموعی طور پر 51.13 ارب روپے، جاری کیے جا چکے ہیں۔ وزیر خزانہ نے منظور شدہ کیسز کو عملی طور پر قرضوں کی فراہمی میں تبدیل کرنے کا عمل تیز کرنے اور سستی مارگیج فنانسنگ کو مزید آسان بنانے کی ہدایت کی۔

اجلاس میں پاکستان ایکسیلیریٹڈ وہیکل الیکٹریفکیشن (PAVE) پروگرام کا بھی جائزہ لیا گیا۔ 17 بینکوں کی شمولیت سے پروگرام کے تحت 17,118 درخواستیں، مجموعی طور پر 2.581 ارب روپے کی فنانسنگ کے ساتھ منظور ہوئیں۔ اب تک 4,228 قرضے، 804 ملین روپے کی مالیت سے جاری کیے گئے جبکہ 1,860 الیکٹرک بائیکس فراہم کی جا چکی ہیں۔ وزیر خزانہ نے منظور اور جاری شدہ فنانسنگ والے مستحقین تک الیکٹرک بائیکس کی فراہمی تیز کرنے پر زور دیا۔

اجلاس کو سمیڈا (SMEDA) کے مالیاتی خواندگی پروگرامز، ایس ایم ای فنانسنگ ہیلپ ڈیسک اور کاروباری افراد کے لیے مختلف دستاویزات و سہولیات سے بھی آگاہ کیا گیا۔ سمیڈا ملک بھر میں مالیاتی خواندگی کے 560 تربیتی پروگرامز منعقد کرنے کا منصوبہ رکھتا ہے، جن میں تقریباً 100 مکمل کیے جا چکے ہیں۔

محمد اورنگزیب نے کہا کہ فنانس تک رسائی بڑھانے کے لیے مالیاتی نظام کے تمام متعلقہ اداروں کو مربوط انداز میں کام کرنا ہوگا، جبکہ ایس ایم ایز اور دیگر کم سہولت یافتہ شعبوں کی مالی استعداد اور بینک فنانسنگ حاصل کرنے کی صلاحیت بہتر بنانا بھی ضروری ہے۔

انہوں نے کہا کہ آسان مالیاتی سہولیات حکومت کے نجی شعبے کی قیادت میں پائیدار اقتصادی ترقی کے وسیع تر مقصد کے لیے اہم ہیں۔ وزیر خزانہ نے متعلقہ ذیلی کمیٹیوں کو ہدایت کی کہ وہ اپنے کام کو آگے بڑھائیں اور اہم سفارشات و عملدرآمد سے متعلق معاملات وزیراعظم کے Access to Finance Plan کے تحت بروقت اسٹیئرنگ کمیٹی کے سامنے پیش کریں۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.