تازہ ترین

سعودی عرب پر حملہ ہوا تو مشترکہ دفاعی معاہدہ فعال ہوگا، خواجہ آصف

0

اسلام آباد: وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ سعودی عرب کے خلاف کسی بھی جارحیت کی صورت میں پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان طے پانے والے مشترکہ دفاعی نظام کے فعال ہونے کا امکان ہے، جبکہ پاکستان اپنے معاہداتی وعدوں کی پاسداری کرے گا۔

خواجہ آصف کے مطابق تینوں ممالک نے اس بات پر اتفاق کیا ہے کہ کسی ایک رکن پر حملہ تینوں کے خلاف حملہ تصور کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ سعودی سرزمین کے خلاف بلااشتعال جارحیت، بشمول یمن کے تنازع کے سعودی عرب تک پھیلاؤ، کی صورت میں دفاعی انتظام یقیناً فعال ہوگا۔

وزیر دفاع نے واضح کیا کہ اس حوالے سے کوئی ابہام نہیں ہونا چاہیے اور پاکستان معاہدے کے تحت اپنی ذمہ داریاں پوری کرے گا۔

خواجہ آصف کے یہ بیانات سعودی عرب کے مختلف شہروں کو حوثی حملوں کا نشانہ بنائے جانے کے بعد سامنے آئے، جن کے نتیجے میں کم از کم 71 افراد زخمی ہوئے اور خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی پر تشویش میں اضافہ ہوا۔

وزیراعظم شہباز شریف نے حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے انہیں بزدلانہ کارروائی قرار دیا اور کہا کہ ایسے حملے شہریوں کی زندگیوں کو خطرے میں ڈالتے اور علاقائی امن کو نقصان پہنچاتے ہیں۔ وزیراعظم نے سعودی عرب کی خودمختاری، سلامتی اور علاقائی سالمیت کے لیے پاکستان کی حمایت کا اعادہ بھی کیا۔

خواجہ آصف نے کہا کہ پاکستان اپنے دفاعی معاہدے کے تحت کیے گئے وعدوں پر قائم ہے، تاہم اسلام آباد کو امید ہے کہ صورتحال میں استحکام آئے گا اور خطے میں جاری کشیدگی بالآخر کم ہوگی۔

پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان دفاعی معاہدہ 7 اگست کو طے پایا تھا، جس کا مقصد تینوں ممالک کے درمیان مشترکہ سکیورٹی اور دفاعی تعاون کے لیے فریم ورک فراہم کرنا ہے۔

یہ معاہدہ ایسے وقت میں سامنے آیا جب مشرق وسطیٰ میں کشیدگی میں اضافہ ہوا اور 28 فروری سے شروع ہونے والے تنازع کے دوران امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر مشترکہ حملے کیے گئے۔

وزیر دفاع نے امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی کم کرنے کے لیے پاکستان کی سفارتی کوششوں کے حوالے سے کہا کہ اسلام آباد کی جانب سے امن کی راہ ہموار کرنے کی کوششیں جاری ہیں۔

ان کے مطابق دونوں فریقوں کے درمیان رابطے برقرار ہیں، تاہم بعض رابطے بالواسطہ طور پر کیے جارہے ہیں۔ پاکستان امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات کی سہولت کاری کی کوشش کررہا ہے اور دونوں ممالک پر زور دے رہا ہے کہ کشیدگی کم کرکے پرامن حل کی طرف بڑھیں۔

خواجہ آصف نے امید ظاہر کی کہ عالمی دباؤ میں اضافے سے خطے میں جاری تنازع کے خاتمے کی راہ ہموار ہوگی۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ اسرائیل کو واشنگٹن اور تہران کے درمیان کشیدگی برقرار رکھنے میں مفاد حاصل ہے

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.