تازہ ترین

سپر ٹیکس میں کمی، ایکسپورٹرز کو 80 ارب روپے کا ریلیف دیا گیا: ایف بی آر

0

اسلام آباد: حکومت نے برآمدی شعبے کو سہولت دینے اور کاروباری سرگرمیوں کو فروغ دینے کے لیے ایکسپورٹرز پر ٹیکس کی شرح میں نمایاں کمی کردی ہے۔ فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کے مطابق ایکسپورٹرز پر عائد ٹیکس 2 فیصد سے کم کرکے 1.25 فیصد کردیا گیا ہے، جبکہ حکومت کی جانب سے مختلف شعبوں کو مجموعی طور پر اربوں روپے کا ٹیکس ریلیف بھی فراہم کیا گیا ہے۔

سینیٹ کی قائمہ کمیٹی خزانہ کی ذیلی کمیٹی کا اجلاس پاکستان پیپلزپارٹی (پی پی پی) کے سینیٹر طلحہ محمود کی زیرصدارت ہوا، جس میں ایف بی آر حکام نے بھاری ٹیکسز کے باعث ملٹی نیشنل کمپنیوں کے پاکستان سے کاروبار منتقل کرنے اور سرمایہ کاری کے ممکنہ انخلا سے متعلق تفصیلی بریفنگ دی۔

ایف بی آر حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ ٹیکس ریٹ میں کمی اور موجودہ اقدامات کے باعث سرمایہ کاری کا انخلا نہیں ہوگا، جبکہ حکومت آئندہ برسوں میں بھی ٹیکسوں کی شرح کم کرنے کی کوشش کرے گی۔

حکام کے مطابق ایکسپورٹرز پر ٹیکس کی شرح 2 فیصد سے کم کرکے 1.25 فیصد کردی گئی ہے، جبکہ وزیراعظم کی جانب سے ایکسپورٹرز کو 80 ارب روپے کا ٹیکس ریلیف دیا گیا ہے۔

ایف بی آر حکام نے بتایا کہ رواں سال مجموعی طور پر 361 ارب روپے کا ٹیکس ریلیف پیکیج دیا گیا ہے۔ کاروباری برادری کے حوالے سے حکام کا کہنا تھا کہ ایک سال کے دوران کوئی گرفتاری یا ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، جبکہ کاروباری برادری کے مسائل کے حل کے لیے کمیٹیاں بھی قائم کردی گئی ہیں۔

کمیٹی کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ ٹیکس گزار ٹیکس ادا کرکے آڈٹ سے بچ سکتے ہیں، جبکہ ٹیکس فائلرز کو اپنے جمع کرائے گئے گوشواروں پر نظرثانی کرنے کا اختیار بھی دیا گیا ہے۔

ایف بی آر حکام کے مطابق 2022 کے معاشی بحران کے بعد ٹیکسوں میں اضافہ کیا گیا تھا، جبکہ اس دوران بعض فارن ایکسچینج پابندیاں بھی عائد کی گئی تھیں۔ حکام کا کہنا تھا کہ 2022 کے بعد پیدا ہونے والے بحران پر قابو پانے اور معیشت کو مستحکم کرنے کے لیے مختلف اقدامات کیے گئے۔

حکام نے بتایا کہ ٹیکس اصلاحات کے سلسلے میں سب سے پہلے تنخواہ دار طبقے پر ٹیکس کم کیے گئے، جبکہ حکومت نے حال ہی میں سپر ٹیکس میں بھی کمی کی ہے۔ سپر ٹیکس کی مد میں 55 ارب روپے کا ٹیکس ریلیف دیا گیا ہے۔

ایف بی آر کے مطابق نان بینکنگ کمپنیوں پر اب 29 فیصد ٹیکس عائد ہے، جبکہ رواں سال ٹیکس وصولی کے نظام میں شفافیت اور انسانی مداخلت کم کرنے کے لیے فیس لیس ٹیکس سسٹم بھی متعارف کرایا گیا ہے۔

سیکریٹری خزانہ کی عدم حاضری پر برہمی

اجلاس کے دوران سینیٹر طلحہ محمود نے سیکریٹری خزانہ کی عدم حاضری پر شدید برہمی کا اظہار کیا۔

انہوں نے کہا کہ سیکریٹری خزانہ اجلاس میں شریک نہیں ہوئے، جس پر ان کے خلاف تحریک استحقاق پیش کی جائے گی۔ سینیٹر طلحہ محمود نے کہا کہ سیکریٹری خزانہ کی عدم حاضری کا معاملہ وزیراعظم کے سامنے بھی اٹھایا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ وہ ایف بی آر میں اصلاحات چاہتے ہیں اور ٹیکس پالیسی کو بہتر بنانا چاہتے ہیں تاکہ کاروباری سرگرمیوں کو فروغ ملے، سرمایہ کاری میں اضافہ ہو اور ٹیکس نظام کو مزید مؤثر بنایا جاسکے۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.