تازہ ترین

امریکا نے برطانیہ میں پابندی کا شکار ’فلسطین ایکشن‘ کو دہشت گرد تنظیم قرار دے دیا

0

واشنگٹن: امریکا نے برطانیہ میں پہلے ہی پابندی کا سامنا کرنے والی تنظیم ’فلسطین ایکشن‘ کو خصوصی طور پر نامزد عالمی دہشت گرد تنظیم قرار دیتے ہوئے اس کے خلاف پابندیاں عائد کردی ہیں، جس کے بعد تنظیم کی سرگرمیوں اور احتجاج کے حق سے متعلق نئی بحث شروع ہوگئی ہے۔

امریکی حکومت نے بدھ کے روز فلسطین ایکشن کو دہشت گرد تنظیم قرار دینے کا اعلان کیا۔ یہ اقدام ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب برطانیہ پہلے ہی تنظیم پر پابندی عائد کرچکا ہے اور فلسطین ایکشن اس فیصلے کے خلاف قانونی کارروائی کر رہی ہے۔

فلسطین ایکشن کا قیام 2020 میں عمل میں آیا تھا۔ تنظیم برطانیہ میں اسرائیل سے منسلک دفاعی کمپنیوں کو اپنی سرگرمیوں کا ہدف بناتی رہی ہے، جن میں اسرائیل کی بڑی دفاعی کمپنی ایلبٹ سسٹمز بھی شامل ہے۔

برطانوی حکومت کی جانب سے تنظیم پر پابندی کے بعد اس سے وابستہ افراد کی بڑے پیمانے پر گرفتاریاں بھی ہوئیں۔ انسانی حقوق کی بعض تنظیموں نے برطانوی اقدام پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اس کے ذریعے سیاسی اختلاف اور احتجاج کو جرم قرار دینے کی کوشش کی گئی ہے۔

امریکی اقدام پر ردعمل دیتے ہوئے فلسطین ایکشن کی شریک بانی ہدا عموری نے کہا کہ تنظیم کی سرگرمیوں کا مقصد اسرائیلی جنگی مشین کے خلاف کارروائی کرکے جانیں بچانا رہا ہے۔ ان کے مطابق امریکا کی جانب سے برطانیہ کی پالیسی سے متاثر ہوکر تنظیم کو دہشت گرد قرار دینا آزادی اظہار اور شہری آزادیوں کے لیے تشویش کا باعث ہے۔

فلسطین ایکشن اپنی ویب سائٹ پر اپنے مقصد کو اسرائیل کی پالیسیوں اور غزہ میں جاری جنگ میں عالمی سطح پر تعاون ختم کرنے کی کوشش قرار دیتی ہے۔

7 اکتوبر 2023 کے حملے کے بعد اسرائیل کی جانب سے غزہ میں بڑے پیمانے پر فوجی کارروائی شروع کیے جانے کے بعد فلسطین ایکشن کو عالمی سطح پر زیادہ توجہ حاصل ہوئی۔ اس کے بعد تنظیم نے برطانیہ میں اسرائیل سے منسلک دفاعی اداروں کے خلاف اپنی سرگرمیاں تیز کردیں۔

امریکی حکومت نے فلسطین ایکشن کے علاوہ اٹلی میں قائم ایک اور گروپ Autistici/Inventati کو بھی دہشت گرد تنظیم قرار دیا ہے۔

امریکی محکمہ خزانہ نے بین الاقوامی سطح پر سرگرم گروپ Masar Badil کے خلاف بھی پابندیاں عائد کی ہیں۔ واشنگٹن کا الزام ہے کہ یہ گروپ فلسطین کی پاپولر فرنٹ فار دی لبریشن آف فلسطین کے لیے ایک فرنٹ کے طور پر کام کرتا ہے۔ امریکا پہلے ہی پاپولر فرنٹ فار دی لبریشن آف فلسطین کو غیر ملکی دہشت گرد تنظیم قرار دے چکا ہے۔

امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان ٹومی پگٹ نے تینوں گروپس کو ’’پرتشدد انتہائی بائیں بازو کی دہشت گرد تنظیمیں‘‘ قرار دیا، جبکہ امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے کہا کہ واشنگٹن ان گروپس کے خلاف اپنے معاشی اختیارات کو بھرپور انداز میں استعمال کرے گا۔

دوسری جانب فلسطین ایکشن اور اس کے حامیوں کا مؤقف ہے کہ تنظیم کی سرگرمیاں فلسطینیوں کے حق میں احتجاج اور اسرائیلی دفاعی صنعت کے خلاف مزاحمت کا حصہ ہیں۔ تنظیم کے خلاف برطانیہ اور امریکا کے حالیہ اقدامات نے آزادی اظہار، احتجاج کے حق اور قومی سلامتی کے درمیان توازن سے متعلق نئی بحث کو جنم دیا ہے۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.