`
تہران: آبنائے ہرمز میں ایک تجارتی جہاز کو نشانہ بنائے جانے کے نتیجے میں ایک شخص جاں بحق اور 3 زخمی ہوگئے، جس کے بعد خطے میں بحری آمدورفت اور عالمی توانائی کی ترسیل سے متعلق خدشات مزید بڑھ گئے ہیں۔
ایرانی حکام کے مطابق واقعہ اتوار کی صبح جزیرہ ہینگم اور قشم کے ساحل کے قریب پیش آیا۔ قشم کے گورنر امیر تیموری نے بتایا کہ تجارتی جہاز کو تقریباً صبح 5 بجے نشانہ بنایا گیا، تاہم انہوں نے حملے کی نوعیت یا اس کے ذمہ دار کے بارے میں مزید تفصیلات فراہم نہیں کیں۔
برطانوی بحری سلامتی سے متعلق ادارے نے بھی جہاز کو ایک نامعلوم گولے یا میزائل نما چیز لگنے کی اطلاع دی ہے، تاہم ابتدائی طور پر جہاز کو پہنچنے والے نقصان اور عملے کی مکمل صورتحال واضح نہیں ہوسکی تھی۔
ایرانی حکام کے مطابق واقعے سے قبل قشم کے اطراف رات کے وقت متعدد دھماکوں کی آوازیں بھی سنی گئی تھیں۔ آبنائے ہرمز میں پہلے سے جاری کشیدگی کے باعث تجارتی جہاز کو نشانہ بنائے جانے کے واقعے نے بحری سلامتی اور عالمی توانائی کی ترسیل کے حوالے سے تشویش میں مزید اضافہ کردیا ہے۔
یہ پیش رفت ایسے وقت سامنے آئی ہے جب ایران اور خلیجی ممالک کے درمیان آبنائے ہرمز کی صورتحال پر عمان میں اہم ملاقات ہونے والی ہے۔ ایران اور عمان کے درمیان محفوظ بحری آمدورفت کے انتظامات پر بھی بات چیت جاری ہے، تاہم فوری طور پر آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر کھولنے کے امکانات محدود قرار دیے جارہے ہیں۔
آبنائے ہرمز دنیا میں تیل کی ترسیل کے لیے انتہائی اہم سمندری راستوں میں شمار ہوتی ہے۔ حالیہ جنگ اور مسلسل حملوں کے باعث اس راستے سے گزرنے والے بحری جہازوں کی تعداد معمول کے مقابلے میں نمایاں طور پر کم ہوگئی ہے، جس کے اثرات عالمی توانائی اور بحری تجارت پر پڑنے کا خدشہ ہے۔