تازہ ترین

حوثیوں کی سعودی عرب کو بڑی پیشکش، حملے روکنے کے لیے 51 ارب ڈالر طلب کر لیے

0

ریاض: یمن کے حوثی گروپ نے سعودی عرب کو حملے روکنے کے معاہدے کے لیے 51 ارب ڈالر معاوضہ ادا کرنے اور حوثیوں کو یمن کی حکمران قوت کے طور پر باضابطہ تسلیم کرنے کی شرط پیش کردی ہے۔

مذاکرات سے آگاہ ذرائع کے حوالے سے سامنے آنے والی رپورٹ کے مطابق سعودی عرب نے حوثیوں سے رابطہ کرکے یہ جاننے کی کوشش کی تھی کہ حملے روکنے کے لیے کس نوعیت کا معاہدہ ممکن ہوسکتا ہے۔

یہ رابطہ حوثیوں کی جانب سے بحیرہ احمر میں سعودی تیل بردار جہازوں پر حملوں اور آبنائے باب المندب کے قریب اہم علاقوں پر قبضے کے بعد کیا گیا تھا۔

رپورٹ کے مطابق حوثیوں نے 51 ارب ڈالر کا مطالبہ سعودی فضائی حملوں اور طویل ناکہ بندی کے نتیجے میں ہونے والے نقصان کے ازالے کے لیے کیا ہے۔ بعد ازاں مختلف مالی مطالبات بھی سامنے آئے، تاہم گروپ کا بنیادی مؤقف یہی رہا کہ تنازع کے خاتمے کے لیے سعودی عرب کو بھاری مالی ادائیگی کرنا ہوگی۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ رواں موسمِ گرما میں لڑائی دوبارہ شدت اختیار کرگئی، جس کے دوران حوثیوں نے سعودی تیل کی تنصیبات اور ہوائی اڈوں کو نشانہ بنایا اور یمن میں مزید اہم علاقوں پر قبضہ کیا۔ حوثی اب یمن کی بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ حکومت کے مرکز عدن سے تقریباً 50 میل کے فاصلے تک پہنچ چکے ہیں، جو 2015 کے بعد ان کی عدن کے قریب ترین پیش قدمی بتائی گئی ہے۔

تنازعات کی نگرانی کرنے والے ادارے اے سی ایل ای ڈی کی سینئر تجزیہ کار کے مطابق اکتوبر میں حوثیوں نے تقریباً روزانہ سعودی عرب پر حملے کیے، جن میں شہری ہوائی اڈوں اور سعودی آرامکو کی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا۔ ادارے کے مطابق حالیہ دنوں میں سعودی عرب کے اندر حملوں کے 26 واقعات رپورٹ ہوئے ہیں۔

دوسری جانب یمن کے صوبے شبوا میں حوثیوں کے ایک حملے میں کم از کم 75 افراد ہلاک اور 200 سے زائد زخمی ہوئے۔ رپورٹ کے مطابق خانہ جنگی میں دوبارہ شدت آنے کے بعد یہ سب سے زیادہ ہلاکتوں والا واقعہ تھا۔

ماہرین کے مطابق حوثیوں کے خلاف مزید زمینی فوج بھیجنا سعودی عرب کے لیے مشکل فیصلہ ہے۔ سعودی ولی عہد محمد بن سلمان مبینہ طور پر میدانِ جنگ میں مزید پیش رفت کے بغیر مکمل مذاکرات نہیں کرنا چاہتے، تاہم اضافی فوجی کارروائیوں میں جانی نقصان اور اندرونِ ملک ردعمل کا خدشہ بھی موجود ہے۔

ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ حوثیوں کی مضبوط زمینی پوزیشن اور سعودی شہری و توانائی کی تنصیبات پر حملوں سے سرمایہ کاروں کا اعتماد متاثر ہوسکتا ہے۔ ایک امریکی فوجی ماہر کے مطابق سعودی عرب کو ایران، عراق کی شیعہ ملیشیاؤں اور حوثیوں کی جانب سے ممکنہ خطرات کے مقابلے کے لیے اپنے پیٹریاٹ میزائل دفاعی نظام سمیت دیگر فضائی دفاعی وسائل استعمال کرنا پڑ رہے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق متحدہ عرب امارات گزشتہ سال دسمبر میں ریاض سے اختلافات کے بعد حوثیوں کے خلاف مہم سے الگ ہوگیا تھا۔ اس کے بعد سعودی عرب نے ترکیہ اور پاکستان کے ساتھ مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کے ذریعے تعاون حاصل کرنے کی کوشش کی، جس کے تحت ایک ملک پر حملے کو تمام فریقوں پر حملہ تصور کیا جائے گا۔

پاکستان نے یمن کے اندر حملوں میں شامل ہونے سے متعلق خبروں کی تردید کی ہے، جبکہ مصر کی پارلیمان نے اکتوبر میں فوجی معاونت کی منظوری دی تھی۔ تاہم صدر عبدالفتاح السیسی نے واضح کیا کہ کسی بھی مشن کی نوعیت دفاعی ہوگی۔ امریکا نے براہِ راست فوجی مدد دینے سے گریز کیا ہے۔

ترکیہ کی پارلیمان نے جمعرات کو مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کی توثیق سے متعلق بل کی پہلی شق منظور کرلی، تاہم اجلاس دوپہر دو بجے تک ملتوی کردیا گیا۔

دوسری جانب یمن کی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ 5 اکتوبر کو شروع ہونے والی ’’ڈان آف یمن‘‘ کارروائی کے بعد سے حوثیوں کے ٹھکانوں کے خلاف 1,322 آپریشن کیے جاچکے ہیں۔ فوج کے مطابق ان کارروائیوں میں تقریباً 340 حوثی جنگجو ہلاک یا غیر مؤثر ہوئے، جبکہ 114 گاڑیاں اور فوجی سازوسامان تباہ یا نقصان زدہ ہوا۔

اقوام متحدہ کے مطابق جولائی سے جاری لڑائی میں ہزاروں افراد ہلاک یا زخمی ہوچکے ہیں، جبکہ ڈھائی لاکھ سے زائد افراد بے گھر ہوئے ہیں۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.