تازہ ترین

سیاسی اختلافات بھلا کر ملک کے مسائل حل کیے جائیں، اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی

0

اسلام آباد: اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی نے حکومت پر زور دیا ہے کہ پارلیمنٹ کو طاقت کا اصل مرکز بنایا جائے اور ملک کو درپیش مسائل کے حل کے لیے اپوزیشن سمیت تمام سیاسی جماعتوں سے مذاکرات کیے جائیں۔

قومی اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے محمود اچکزئی نے کہا کہ جب حکومت سے بات کرنے کی کوشش کی جاتی ہے تو جواب میں گالم گلوچ کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ انہوں نے حنیف عباسی کے دورۂ حرمین شریفین کا حوالہ دیتے ہوئے ووٹوں کے لیے رقم دینے سے متعلق سوال اٹھایا اور حکومت میں مبینہ بدعنوانی کی تحقیقات کے لیے کمیٹی بنانے کا مطالبہ کیا۔

انہوں نے خواجہ آصف، پاکستان پیپلز پارٹی اور دیگر سیاسی جماعتوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ پارلیمنٹ کو مضبوط کیا جائے، اس مقصد کے لیے اپوزیشن بھی تعاون کرنے کو تیار ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ملک کو کمزور کرنے کے بجائے قومی اتحاد اور استحکام کے لیے اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔

محمود اچکزئی نے معاشی مشکلات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ مزدور کی آمدن محدود ہے، تقریباً چھ کروڑ بچے اسکولوں سے باہر ہیں اور مہنگائی نے عام آدمی کی زندگی مشکل بنا دی ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ جب متوسط طبقے کے لیے گاڑی میں 40 ہزار روپے کا پیٹرول ڈلوانا مشکل ہو اور غریب شخص کے لیے 20 ہزار روپے کا بندوبست کرنا بھی دشوار ہو تو ملک کیسے چل سکتا ہے؟

افغانستان کے ساتھ تعلقات کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے ماضی میں دونوں ملکوں کے قریبی روابط اور سابق وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کے دور میں افغانستان میں کابینہ اجلاس کا حوالہ دیا۔ افغان طالبان کے معاملے پر ان کا کہنا تھا کہ ماضی میں انہیں قومی اثاثہ قرار دیا گیا تھا، اس لیے اس مسئلے کو محض شور شرابے اور گالم گلوچ سے حل نہیں کیا جا سکتا۔

ایران کی صورت حال پر محمود اچکزئی نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ اپوزیشن کو اعتماد میں لیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ اگر حکومت مشاورت کرے تو وہ تعاون کے لیے تیار ہیں اور اب تمام سیاسی فریقوں کو ماضی کی تلخیاں بھلا کر مل کر آگے بڑھنا چاہیے۔

اپنے خطاب کے اختتام پر اپوزیشن لیڈر نے کہا کہ حکمران فرعون سے زیادہ طاقتور نہیں ہوتے اور نہ ہی حکومت مکمل طور پر درست ہے، نہ اپوزیشن مکمل طور پر غلط۔ ان کے مطابق ملک کو درپیش مسائل کے حل کے لیے تمام فریقوں کو مذاکرات کی میز پر بیٹھنا ہوگا۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.