وفاقی حکومت نے الیکٹرک گاڑیوں کے فروغ اور ان پر رعایتی سیلز ٹیکس برقرار رکھنے کے لیے آئی ایم ایف کو ٹیکس آمدن کا متبادل منصوبہ پیش کردیا ہے۔ مجوزہ منصوبے کے تحت الیکٹرک گاڑیوں پر ایک فیصد سیلز ٹیکس کی شرح برقرار رکھنے کی کوشش کی جا رہی ہے، جبکہ اضافی محصولات حاصل کرنے کے لیے پیٹرول گاڑیوں اور دیگر شعبوں پر مختلف لیویز عائد کرنے کی تجاویز بھی زیر غور ہیں۔
ذرائع کے مطابق آئی ایم ایف نے الیکٹرک گاڑیوں پر سیلز ٹیکس ایک فیصد سے بڑھا کر 18 فیصد کرنے کا مطالبہ کیا تھا، تاہم حکومت الیکٹرک گاڑیوں کے استعمال کو فروغ دینے کے لیے موجودہ رعایتی شرح برقرار رکھنا چاہتی ہے۔ اسی مقصد کے تحت حکومتی ٹیم نے متبادل ذرائع سے اضافی ٹیکس ریونیو جمع کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیراعظم کی جانب سے منظور کردہ نئی آٹو پالیسی کا مسودہ اور ٹیکس آمدن کا متبادل منصوبہ آئی ایم ایف کو پیش کردیا گیا ہے۔ اگر عالمی مالیاتی ادارہ اس منصوبے کی منظوری دے دیتا ہے تو نئی آٹو پالیسی وفاقی کابینہ کی منظوری کے بعد جاری کی جاسکے گی۔ مجوزہ رعایت کے نتیجے میں الیکٹرک گاڑیوں کے شعبے کو تقریباً 85 ارب روپے کے سیلز ٹیکس ریلیف ملنے کے امکانات ظاہر کیے گئے ہیں۔
متبادل منصوبے میں 75 ہزار ڈالر تک مالیت کی الیکٹرک گاڑیوں پر ایک فیصد سیلز ٹیکس برقرار رکھنے کی تجویز شامل ہے۔ اس کے ساتھ دو کروڑ روپے سے زائد مالیت کی الیکٹرک گاڑیوں پر 10 فیصد فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی عائد کرنے کی تجویز بھی زیر غور ہے۔ تاہم، ان تجاویز پر عمل درآمد کا انحصار آئی ایم ایف کی منظوری اور حکومت کے حتمی فیصلے پر ہوگا۔
مجوزہ آٹو پالیسی میں پیٹرول انجن والی گاڑیوں پر آٹوموٹیو ڈیولپمنٹ لیوی عائد کرنے کی تجویز بھی شامل ہے۔ ذرائع کے مطابق ایک ہزار ایک سی سی سے دو ہزار سی سی تک کی گاڑیوں پر دو فیصد، جبکہ دو ہزار ایک سی سی یا اس سے زیادہ انجن کی حامل گاڑیوں پر 10 فیصد لیوی عائد کی جاسکتی ہے۔ اس کا اطلاق مقامی طور پر تیار ہونے والی اور درآمد کی جانے والی پیٹرول گاڑیوں پر کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
حکومتی منصوبے میں پیٹرول اور ڈیزل گاڑیوں پر کاربن لیوی برقرار رکھنے کا امکان بھی ظاہر کیا گیا ہے۔ ذرائع کے مطابق کاربن لیوی کے ذریعے تقریباً 25 ارب روپے جبکہ مختلف لیویز سے مجموعی طور پر 37 ارب روپے حاصل ہونے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔ اس کے علاوہ آٹوموٹیو ڈیولپمنٹ لیوی کے تحت بسوں اور ٹرکوں سے 45 ارب روپے جمع کرنے کا اندازہ پیش کیا گیا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ ان تجاویز کو حتمی شکل دینے کے لیے فنانس بل میں ترمیم بھی کی جاسکتی ہے۔ حکومت کی کوشش ہے کہ الیکٹرک گاڑیوں پر رعایتی ٹیکس برقرار رکھتے ہوئے محصولات کے اہداف بھی پورے کیے جائیں۔ تاہم، نئی آٹو پالیسی کی حتمی منظوری اور ٹیکس کی شرحوں کا فیصلہ آئی ایم ایف سے مذاکرات کے نتائج کے بعد ہوگا۔