ملک میں کپاس کی آمد میں گزشتہ سیزن کے مقابلے میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، 15 اکتوبر تک جننگ فیکٹریوں میں 40 لاکھ 81 ہزار سے زائد گانٹھیں پہنچ چکی ہیں، جو گزشتہ سال کی اسی مدت کے مقابلے میں 7.53 فیصد زیادہ ہیں۔
پاکستان کاٹن جنرز ایسوسی ایشن (پی سی جی اے) کی جاری کردہ پندرہ روزہ رپورٹ کے مطابق، گزشتہ سیزن میں اسی مدت تک کپاس کی آمد 37 لاکھ 95 ہزار 637 گانٹھیں تھی، جبکہ رواں سیزن میں یہ تعداد بڑھ کر 40 لاکھ 81 ہزار 265 گانٹھیں ہوگئی۔ اس طرح گزشتہ سال کے مقابلے میں 2 لاکھ 85 ہزار 628 گانٹھوں کا اضافہ ہوا۔ جننگ فیکٹریوں میں اب تک 37 لاکھ 33 ہزار 154 گانٹھوں کی پروسیسنگ بھی مکمل ہوچکی ہے۔
صوبائی اعدادوشمار کے مطابق پنجاب میں 16 لاکھ 38 ہزار 497 گانٹھیں پہنچیں، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں 7.79 فیصد زیادہ ہیں، جبکہ سندھ میں 24 لاکھ 42 ہزار 768 گانٹھوں کی آمد ریکارڈ کی گئی، جس میں 7.35 فیصد اضافہ ہوا۔ پنجاب میں بہاولنگر 4 لاکھ 18 ہزار 750 گانٹھوں کے ساتھ سرفہرست رہا، جبکہ بہاولپور میں 2 لاکھ 94 ہزار 606 اور ڈیرہ غازی خان میں 2 لاکھ 36 ہزار 514 گانٹھیں پہنچیں۔
ضلع لودھراں میں کپاس کی آمد میں 102.89 فیصد اور لیہ میں 76.68 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جبکہ ملتان میں آمد 11.59 فیصد بڑھ کر 23 ہزار 977 گانٹھیں ہوگئی۔ دوسری جانب خانیوال میں 31.07 فیصد، وہاڑی میں 26.56 فیصد اور رحیم یار خان میں 12.66 فیصد کمی ہوئی۔ مظفرگڑھ اور راجن پور میں بھی بالترتیب 74.51 فیصد اور 63.80 فیصد کی نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی۔
سندھ میں سانگھڑ 11 لاکھ 37 ہزار 903 گانٹھوں کے ساتھ پہلے نمبر پر رہا، جبکہ سکھر میں 2 لاکھ 64 ہزار 500 اور نوشہرو فیروز میں 2 لاکھ 23 ہزار 200 گانٹھیں پہنچیں۔ رپورٹ کے مطابق ٹیکسٹائل ملوں نے 34 لاکھ 52 ہزار 335 گانٹھیں خریدیں، جبکہ برآمد کنندگان اور تاجروں نے 97 ہزار 400 گانٹھیں خریدیں۔ اس طرح مجموعی فروخت 35 لاکھ 49 ہزار 735 گانٹھیں رہی۔ ملک میں کپاس کا غیر فروخت شدہ ذخیرہ 5 لاکھ 31 ہزار 530 گانٹھیں ہے، جبکہ گزشتہ سال اسی مدت میں یہ ذخیرہ 6 لاکھ 30 ہزار 471 گانٹھیں تھا۔ اس وقت ملک بھر میں 471 جننگ فیکٹریاں کام کر رہی ہیں۔