بلوچستان میں امن و امان کی صورتِ حال سے متعلق تشویش کے درمیان ضلع خضدار کے علاقے نال میں نامعلوم مسلح افراد نے ماربل فیکٹری پر حملہ کرکے 18 مزدوروں کو اغوا کر لیا، جبکہ فائرنگ سے ایک مزدور زخمی ہوگیا۔ حملہ آور فیکٹری سے دو گاڑیاں اور ایک لوڈر بھی اپنے ساتھ لے گئے۔
پولیس کے مطابق واقعہ خضدار شہر سے تقریباً 35 سے 40 کلومیٹر دور بیسار پہاڑی کے قریب پیش آیا، جہاں نیشنل پارٹی کے سابق صوبائی وزیر سردار اسلم بزنجو اور ان کے بیٹے شاہ میر بزنجو کی ماربل فیکٹری واقع ہے۔
پولیس اہلکار کے مطابق درجنوں مسلح افراد گاڑیوں اور موٹر سائیکلوں پر سوار ہو کر فیکٹری میں داخل ہوئے اور وہاں کام کرنے والے مزدوروں کو زبردستی اپنے ساتھ لے گئے۔ اس دوران ایک مزدور نے فرار ہونے کی کوشش کی تو حملہ آوروں نے اس پر فائرنگ کر دی، جس سے وہ ٹانگ میں گولی لگنے کے باعث زخمی ہوگیا۔
زخمی مزدور کی شناخت راشد کے نام سے ہوئی ہے۔ طبی ذرائع کے مطابق اس کی حالت خطرے سے باہر ہے۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق اغوا کیے گئے مزدوروں کا تعلق خضدار کے مختلف علاقوں سے ہے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ حملہ آور فیکٹری سے دو گاڑیاں اور ایک لوڈر بھی لے کر فرار ہوگئے۔ تاحال کسی مسلح گروہ نے واقعے کی ذمہ داری قبول نہیں کی۔
یہ واقعہ ایک ایسے وقت میں پیش آیا ہے جب گزشتہ روز ضلع مستونگ میں بھی نامعلوم مسلح افراد نے ایک مسافر وین سے رخشان ڈویژن سے تعلق رکھنے والے 20 پولیس اہلکاروں کو اغوا کر لیا تھا۔ بلوچستان میں یکے بعد دیگرے پیش آنے والے ان واقعات نے امن و امان کی صورتِ حال پر تشویش بڑھا دی ہے۔
حکام کے مطابق مغوی مزدوروں کی بازیابی کے لیے علاقے میں سرچ آپریشن شروع کر دیا گیا ہے، جبکہ پولیس نے مقدمہ درج کرکے واقعے کی تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔