اسلام آباد: قومی ٹیکس وصولیوں میں اضافے اور ٹیکس نیٹ کو وسعت دینے میں مشکلات کے باعث حکومت نے فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کی تنظیم نو یا ایک نیا ٹیکس وصولی ادارہ قائم کرنے کے امکانات پر غور شروع کردیا ہے۔ سرکاری حکام کے مطابق اس معاملے پر مشاورت ابتدائی مرحلے میں ہے اور تاحال کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا۔
حکام کے مطابق گزشتہ ہفتے ہونے والے اعلیٰ سطح کے اجلاس میں پہلی مرتبہ مکمل طور پر نیا ادارہ قائم کرنے کی تجویز پیش کی گئی۔ اس کے بعد ایف بی آر کے اندر بھی مشاورت شروع ہوگئی، جبکہ چیئرمین ایف بی آر راشد لنگڑیال نے بعض افسران کو وزیراعظم شہباز شریف کے سامنے تجاویز پیش کرنے کے لیے منصوبہ تیار کرنے کی ذمہ داری سونپی ہے۔
وزیراعظم آفس کی ہدایات کے مطابق ایف بی آر کو 19 اکتوبر کو انسانی وسائل میں اصلاحات، ادارے کی بہتری اور تنظیم نو سے متعلق جامع تجاویز پیش کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
ایف بی آر کے ترجمان نے کہا ہے کہ ادارے میں اصلاحات ایک مسلسل عمل ہے، جس کے دوران مختلف تجاویز زیر غور آتی رہتی ہیں۔ ترجمان نے تصدیق کی کہ وزیراعظم نے انسانی وسائل میں اصلاحات اور ادارے کی ازسرنو تشکیل سے متعلق تجاویز طلب کی ہیں۔ تاہم ٹیکس وصولیوں کا کام کسی نجی کمپنی کے حوالے کرنے کی اطلاعات کو بے بنیاد قرار دیا گیا ہے۔
ذرائع کے مطابق زیر غور تجاویز میں قومی ٹیکس ایجنسی کا قیام بھی شامل ہے۔ اگر ایف بی آر کے اختیارات کسی نئے ادارے کو منتقل کرنے کا فیصلہ ہوا تو اس کے لیے ایف بی آر ایکٹ 2007 سمیت متعدد قوانین میں ترامیم درکار ہوں گی۔ ایک سرکاری عہدیدار کے مطابق ابتدائی سوچ یہ ہے کہ ایف بی آر کو مکمل طور پر ختم نہیں کیا جائے گا اور نئے ادارے میں شامل نہ ہونے والے افسران موجودہ ادارے میں ریٹائرمنٹ تک خدمات انجام دے سکیں گے۔
نئے ادارے کے قیام پر غور کی وجوہات میں ٹیکس نیٹ کو وسعت دینے میں ناکامی، مطلوبہ ٹیکس وصولیاں حاصل نہ ہونا اور ٹیکس ٹو جی ڈی پی تناسب میں جمود شامل ہیں۔ ایف بی آر کے ترجمان کے مطابق تبدیلی کے منصوبے کے تحت دو سال میں ٹیکس وصولیاں 9 ہزار 200 ارب روپے سے بڑھ کر 13 ہزار ارب روپے ہوگئیں۔ تاہم اس اضافے میں اضافی ٹیکسوں اور معیشت کی معمولی شرح نمو کے اثرات بھی شامل ہونے کی نشاندہی کی گئی ہے۔
حکومت نے آئی ایم ایف پروگرام کے تحت بھاری ٹیکس عائد کیے تھے، جنہوں نے پہلے سال ٹیکس ٹو جی ڈی پی تناسب میں اضافے میں کردار ادا کیا۔ دوسری جانب کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی نے نومبر 2024 میں چھ ماہ کے لیے 32.5 ارب روپے کے پہلے اخراجاتی پیکیج کی منظوری دی تھی، جس میں ایک ہزار 87 نئی گاڑیوں کی خریداری کے لیے 5.6 ارب روپے مختص کیے گئے۔
ایف بی آر کو ٹیکس گوشوارے جمع کرانے والوں کی تعداد بڑھانے میں بھی مشکلات کا سامنا ہے۔ قومی ٹیکس نمبرز رکھنے والے 19 ملین افراد میں سے فراہم کردہ اعدادوشمار کے مطابق جمعرات کی شام تک صرف 6.9 ملین افراد نے گوشوارے جمع کرائے تھے، جبکہ گزشتہ ٹیکس سال میں 8.5 ملین گوشوارے جمع ہوئے تھے۔
حکومت نے 3.7 ملین خوردہ فروشوں کو ٹیکس نیٹ میں لانے کے لیے مقررہ ٹیکس نظام کی اسکیم بھی شروع کی تھی، جبکہ رواں سال ایک ملین تاجروں کو ٹیکس نیٹ میں شامل کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا تھا۔ اس کے علاوہ ڈیجیٹل انوائسنگ، پوائنٹ آف سیل نظام اور مصنوعی ذہانت پر مبنی رسک مینجمنٹ کے ذریعے کاروباری لین دین کی نگرانی اور آڈٹ کے عمل کو بہتر بنانے کی کوششیں جاری ہیں۔