تازہ ترین

گورنر راج اور ایمرجنسی کے خلاف پی ٹی آئی کا قانونی، پارلیمانی اور عوامی محاذ پر لڑنے کا اعلان

0

اسلام آباد: پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) اور تحریک تحفظ آئین پاکستان (ٹی ٹی اے پی) نے خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کے خلاف قانونی، پارلیمانی اور عوامی سطح پر مزاحمت کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ دونوں جماعتوں نے وفاقی حکومت پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ دہشت گردی کی صورتحال کو صوبے کی منتخب حکومت کے خلاف کارروائی کے جواز کے طور پر استعمال کر رہی ہے۔

مشاورت کے بعد جاری بیان میں پی ٹی آئی چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان، ٹی ٹی اے پی کے وائس چیئرمین علامہ راجہ ناصر عباس، پی ٹی آئی کے سیکریٹری جنرل سلمان راجہ اور دیگر رہنماؤں نے مجوزہ اقدامات کو مسترد کرتے ہوئے سوال اٹھایا کہ آیا ان کا مقصد واقعی سیکیورٹی صورتحال سے نمٹنا ہے یا سیاسی مخالفین کی صوبائی حکومت کو کمزور کرنا ہے۔

رہنماؤں کا کہنا تھا کہ دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں کے نام پر صوبائی خودمختاری اور عوامی مینڈیٹ کو متاثر نہیں کیا جانا چاہیے۔ ان کے مطابق خیبرپختونخوا میں پی ٹی آئی کی حکومت کو دو تہائی اکثریت حاصل ہے، اس لیے وفاقی مداخلت کے جواز اور ضرورت پر سوالات اٹھتے ہیں۔

بیرسٹر گوہر کا مذاکرات سے متعلق سوال

بیرسٹر گوہر علی خان نے دہشت گردی کو صوبائی حکومت کے خلاف اقدامات کی بنیاد بنانے کے وقت پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ پی ٹی آئی نے وفاقی حکام کے ساتھ مشاورت میں حصہ لیا اور مذاکرات کے دوران تعاون کیا تھا۔ ان کے مطابق پارٹی 15 اجلاسوں اور دو روزہ مذاکرات میں شریک ہوئی، جن کا تحریری ریکارڈ بھی موجود ہے۔

انہوں نے وفاقی حکومت سے وضاحت طلب کی کہ آیا 2 اکتوبر سے قبل مذاکرات میں دہشت گردی کا معاملہ اٹھایا گیا تھا یا نہیں، اور اگر ایسا نہیں ہوا تو بعد میں اسے صوبائی حکومت کے خلاف کارروائی کی بنیادی وجہ کیوں بنایا گیا۔

پی ٹی آئی چیئرمین کے مطابق وفاقی نمائندوں نے ابتدا میں صوبائی حکومت پر انسدادِ دہشت گردی کے معاملات میں تعاون نہ کرنے کا الزام لگایا تھا، جسے انہوں نے مسترد کیا۔ ان کا دعویٰ تھا کہ صوبائی حکومت متعلقہ ایپکس کمیٹی کے اجلاسوں میں شریک ہوتی رہی، پولیس کی استعداد بڑھانے کے اقدامات کیے گئے اور سیکیورٹی وسائل میں اضافہ کیا گیا۔

گوہر علی خان نے وفاقی حکام کو چیلنج کیا کہ وہ ایسی کوئی مثال سامنے لائیں جس میں صوبائی حکومت نے سیکیورٹی کے لیے طلب کیے گئے فنڈز فراہم کرنے سے انکار کیا ہو۔ ان کے مؤقف کے مطابق ان دعوؤں کا جائزہ اجلاسوں کی کارروائی، فنڈز کے ریکارڈ اور سرکاری خط و کتابت کی مدد سے لیا جا سکتا ہے۔

لانگ مارچ اور وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کی گرفتاری پر اعتراض

بیرسٹر گوہر نے الزام لگایا کہ دہشت گردی کے معاملے کو پی ٹی آئی کے مجوزہ لانگ مارچ میں رکاوٹ ڈالنے کے لیے بھی استعمال کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ اگر سیکیورٹی خدشات صرف 12 اضلاع سے متعلق ہیں تو پھر پورے صوبے میں ایمرجنسی اور گورنر راج نافذ کرنے کی ضرورت کیوں پیش آئی۔

پی ٹی آئی چیئرمین نے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کی مبینہ گرفتاری کی بھی مذمت کرتے ہوئے اسے صوبے کے عوامی مینڈیٹ پر حملہ قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ پارٹی قیادت وزیراعلیٰ سے براہِ راست رابطہ نہیں کر پا رہی۔

ایک الگ بیان میں بیرسٹر گوہر نے جماعت اسلامی، جمعیت علمائے اسلام (ف) اور عوامی نیشنل پارٹی کا گورنر راج اور ایمرجنسی کی مخالفت پر شکریہ ادا کیا۔ ان کے مطابق ان جماعتوں کے مؤقف سے ظاہر ہوتا ہے کہ مجوزہ مداخلت کے خلاف سیاسی سطح پر بھی مخالفت موجود ہے۔

اٹھارہویں ترمیم کا حوالہ، عدالت سے رجوع کرنے کا اعلان

بیرسٹر گوہر نے اٹھارہویں آئینی ترمیم کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ناقص طرزِ حکمرانی کے الزامات بذاتِ خود صوبائی خودمختاری کو ختم کرنے کے لیے وفاقی مداخلت کا جواز نہیں بن سکتے۔ ان کا مؤقف تھا کہ ایمرجنسی اور گورنر راج کے اقدامات صوبائی خودمختاری کی روح کے منافی ہیں اور انہیں عدالت میں چیلنج کیا جا سکتا ہے۔

انہوں نے الزام لگایا کہ وفاقی مداخلت سے صوبائی اختیارات کمزور اور مرکز میں طاقت مزید مرتکز ہو رہی ہے۔ پی ٹی آئی کے مطابق وہ اس معاملے کو عدالتوں، منتخب ایوانوں اور عوامی سطح پر اٹھائے گی۔

عمران خان اور دیگر رہنماؤں کے معاملات بھی اٹھا دیے

پی ٹی آئی نے اس تنازع کو سابق وزیراعظم عمران خان سے متعلق اپنے دیرینہ مطالبات سے بھی جوڑا۔ پارٹی رہنماؤں نے عمران خان کو طبی سہولتوں کی فراہمی، ان سے ملاقاتوں اور ان کے بچوں سے رابطے کے معاملات پر اپنے مطالبات دہرائے۔

بیرسٹر گوہر نے پی ٹی آئی رہنماؤں اور بشریٰ بی بی کے مقدمات میں تاخیر پر بھی سوالات اٹھاتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ طویل عدالتی کارروائیوں سے بروقت انصاف کے تقاضے متاثر ہو رہے ہیں۔

انہوں نے واضح کیا کہ پی ٹی آئی دہشت گردی کی مخالفت کرتی ہے اور ملک کی سیکیورٹی کوششوں کی حمایت کرتی ہے، تاہم ان کے بقول سیکیورٹی خدشات کو سیاسی مطالبات دبانے یا پُرامن احتجاج روکنے کے لیے استعمال نہیں کیا جانا چاہیے۔ بیرسٹر گوہر نے مجوزہ لانگ مارچ کو محض احتجاج کے بجائے انصاف کے حصول کی مہم قرار دیا۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.