اسلام آباد: وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ پاکستان نے باہمی تعاون اور اصلاحات کے ذریعے معاشی استحکام حاصل کرلیا ہے، اب ملک کو پائیدار اقتصادی ترقی، روزگار کے مواقع، پیداوار اور برآمدات میں اضافے پر توجہ مرکوز کرنا ہوگی۔
نیا ناظم آباد اپارٹمنٹ ریئٹ اسکیم کی فہرست میں شمولیت کے موقع پر ویڈیو لنک کے ذریعے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے وفاقی و صوبائی حکومتوں، مالیاتی اداروں اور اقتصادی ٹیم کی مشترکہ کوششوں کو سراہا۔
شہباز شریف نے کہا کہ معاشی استحکام کے حصول کے لیے سیاسی قیادت، عسکری قیادت اور متعلقہ اداروں نے مل کر کام کیا، جبکہ اصلاحات پر عملدرآمد کے نتیجے میں پاکستان دوبارہ پائیدار ترقی کی راہ پر گامزن ہوا ہے۔
وزیراعظم کے مطابق نیویارک اور لندن کے حالیہ دوروں کے دوران عالمی مالیاتی اداروں کے نمائندوں سے ملاقاتیں ہوئیں، جنہوں نے پاکستان کی جانب سے ساختی اصلاحات پر عملدرآمد کو سراہا اور سرمایہ کاری کے لیے سازگار ماحول قرار دیا۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان نے 3 ارب ڈالر کا یورو بانڈ کامیابی سے جاری کیا، جس کے لیے 6 ارب ڈالر کی پیشکشیں موصول ہوئیں۔ ان کے مطابق اسٹیٹ بینک کے زرمبادلہ کے ذخائر تقریباً 21.4 ارب ڈالر جبکہ کمرشل بینکوں کے ذخائر 5.5 ارب ڈالر تک پہنچ گئے ہیں۔
وزیراعظم نے کہا کہ ترسیلات زر اور آئی ٹی برآمدات میں بھی اضافہ ہو رہا ہے جبکہ روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹ کی کارکردگی میں بھی بہتری آئی ہے۔
شہباز شریف نے کہا کہ اب پاکستان کو معاشی استحکام سے آگے بڑھ کر ایسی اقتصادی ترقی کی طرف جانا ہوگا جو ٹیکنالوجی، روزگار، پیداوار اور برآمدات میں اضافے پر مبنی ہو۔
انہوں نے بتایا کہ مالی سال 2026-27 کے وفاقی بجٹ میں برآمد کنندگان، صنعت کاروں اور مختلف شعبوں، بالخصوص تعمیراتی شعبے کے لیے سیکڑوں ارب روپے کی ٹیکس رعایتیں اور مراعات دی گئی ہیں جن کے نتائج سامنے آنا شروع ہوگئے ہیں۔
وزیراعظم نے ریئل اسٹیٹ اور صنعتی شعبے میں ریئٹ نظام کے تحت لاہور اور کراچی میں شروع کیے گئے اقدامات کو سراہتے ہوئے اسٹاک ایکسچینج اور کیپٹل مارکیٹس کو مزید جدید اور بہتر بنانے پر زور دیا۔
انہوں نے بعض ایسی صنعتوں کی کارکردگی پر تشویش کا اظہار کیا جنہیں بھاری سبسڈی، ٹیرف تحفظ اور دیگر مراعات فراہم کی گئیں، تاہم درآمدی متبادل پیدا کرنے اور مسابقت بڑھانے کے وعدوں کے باوجود وہ مطلوبہ نتائج دینے میں ناکام رہیں۔
شہباز شریف نے کہا کہ قومی مفاد کو ذاتی مفادات پر ترجیح دیتے ہوئے دیانت داری سے آگے بڑھنا ہوگا، جبکہ معاشی ترقی کے لیے جدید مشینری، زیادہ پیداوار اور محنت ضروری ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ صنعت کاری اور برآمدات پر خصوصی توجہ دے کر معیشت میں برآمدات پر مبنی نمو لانا ہوگی۔
وزیراعظم نے چیف آف ڈیفنس فورسز و چیف آف آرمی اسٹاف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کو قومی سلامتی اور معاشی ترقی کے لیے تعاون اور عزم پر سراہا۔
انہوں نے قومی احتساب بیورو کے چیئرمین کی جانب سے سرکاری اراضی کی بازیابی اور لینڈ بینک کے قیام کے منصوبے کو بھی سراہا اور اس عزم کا اظہار کیا کہ مسلسل محنت، اصلاحات اور اجتماعی کوششوں کے ذریعے پاکستان کو مضبوط معیشت بنایا جائے گا۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا کہ معیشت میں نجی شعبے کی شمولیت بڑھ رہی ہے اور حکومت نجی شعبے کے لیے مطلوبہ ماحول فراہم کرتی رہے گی۔
انہوں نے بتایا کہ رہائشی قرضوں کی مد میں 60 ارب روپے تقسیم کیے جاچکے ہیں جبکہ ٹیکس وصولی کے اہداف بھی عبور کیے جاچکے ہیں۔ ان کے مطابق ٹیکس گوشوارے جمع کرانے والوں کی تعداد گزشتہ سال کے 39 لاکھ کے مقابلے میں بڑھ کر 57 لاکھ سے تجاوز کرگئی ہے۔
کاروباری رہنما عارف حبیب نے کہا کہ پاکستان ساڑھے چار سال بعد عالمی کیپٹل مارکیٹس میں واپس آیا ہے اور یورو بانڈ کے مثبت ردعمل سے ظاہر ہوتا ہے کہ عالمی سرمایہ کار پاکستانی معیشت پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔