تازہ ترین

ڈی جی آئی ایس پی آر کی پریس کانفرنس، بھارتی دعوے کے برعکس حوالدار محمد آصف میڈیا کے سامنے آگئے

0

راولپنڈی: ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چودھری نے بھارتی میڈیا کے اس دعوے کو مسترد کیا ہے جس میں سابق پاکستانی فوجی حوالدار محمد آصف کو مقبوضہ کشمیر میں ایک مبینہ دہشت گرد قرار دے کر ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا گیا تھا، جبکہ پریس کانفرنس کے دوران محمد آصف کو میڈیا کے سامنے پیش کردیا گیا۔

ہنگامی پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ 29 ستمبر کو مقبوضہ کشمیر میں ایک کارروائی کے حوالے سے بھارتی حکام کی جانب سے ایسے دعوے سامنے آئے جن میں محمد آصف کو لشکر طیبہ کا کمانڈر قرار دیا گیا۔

لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چودھری کے مطابق بھارتی حکام نے سرچ آپریشن کے دوران ایک شخص کی ہلاکت کا دعویٰ کیا اور اس کی شناخت محمد آصف عرف ہاشم موسیٰ کے طور پر ظاہر کی۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے بتایا کہ بھارتی ذرائع کی جانب سے جاری تفصیلات میں اس شخص کو پاک فوج کا سابق حوالدار قرار دیتے ہوئے مختلف عسکری کارروائیوں سے منسلک کرنے کے دعوے بھی کیے گئے۔

انہوں نے کہا کہ بھارتی ذرائع نے محمد آصف کے حوالے سے مختلف تفصیلات جاری کیں اور اسے 2022 سے مقبوضہ جموں و کشمیر میں سرگرم رہنے والا شخص قرار دینے کی کوشش کی۔

پریس کانفرنس کے دوران سابق حوالدار محمد آصف خود میڈیا کے سامنے آئے اور بھارتی الزامات کو مسترد کردیا۔

محمد آصف نے بتایا کہ وہ 2000 میں پاک فوج میں بھرتی ہوئے اور 2020 میں ایس ایس جی سے ریٹائر ہوئے، جس کے بعد وہ راولپنڈی میں اپنے اہلخانہ کے ساتھ زندگی گزار رہے ہیں۔

ان کے مطابق کچھ عرصے سے انہیں بھارتی نمبروں سے مسلسل کالز موصول ہورہی تھیں، جن میں ان کی ذاتی معلومات حاصل کرنے کی کوشش کی جاتی تھی۔ انہوں نے بتایا کہ وہ ایسے نمبروں کو بلاک کرتے رہے۔

محمد آصف کے مطابق بعد میں انہیں دوستوں کے ذریعے معلوم ہوا کہ سوشل میڈیا پر ان کی ہلاکت کی خبریں گردش کررہی ہیں اور انہیں مقبوضہ کشمیر میں مارے جانے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ بھارتی میڈیا اور عسکری ذرائع کی جانب سے محمد آصف کے حوالے سے کیے گئے دعووں کو ان کے زندہ ہونے کے ثبوت کے ساتھ سامنے رکھا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان نے بھارتی دعوے کے حوالے سے حقائق عالمی میڈیا کے سامنے رکھ دیے ہیں۔ ڈی جی آئی ایس پی آر نے بھارت پر فالس فلیگ کارروائیوں کے الزامات بھی عائد کیے اور کہا کہ ایسے دعووں کے ذریعے مقبوضہ کشمیر کی صورتحال اور دیگر معاملات سے توجہ ہٹانے کی کوشش کی جاتی ہے۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے بھارت کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ اگر کسی قسم کی مہم جوئی یا فالس فلیگ کارروائی کی کوشش کی گئی تو پاکستان کی جانب سے سخت ردعمل دیا جائے گا۔

افغانستان سے متعلق سوال پر ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ پاکستان نے مذاکرات سمیت مختلف کوششیں کیں، تاہم ان کے مطابق دہشت گردی کے معاملے پر مزید طریقہ کار پر بھی کام کیا جارہا ہے۔

ملکی سیاسی معاملات کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ افواج پاکستان آئین کی پابند ہیں اور فوج کا سیاست سے کوئی تعلق نہیں۔ ان کے مطابق صوبوں کے ساتھ بات چیت اور سیاسی معاملات کو دیکھنا وفاقی حکومت کا کام ہے۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے واضح کیا کہ ملکی سلامتی پر کسی قسم کا سمجھوتا نہیں کیا جائے گا اور ملک کے دفاع و سلامتی کے لیے ضروری اقدامات کیے جائیں گے۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.