ڈالر دو ماہ کی بلند سطح کے قریب، تیل کی قیمت 106 ڈالر سے تجاوز کرگئی
ہانگ کانگ- امریکا اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی اور تیل کی قیمتوں میں اضافے کے باعث ڈالر عالمی کرنسی مارکیٹ میں مضبوط رہا اور دو ماہ کی بلند سطح کے قریب پہنچ گیا، جبکہ سرمایہ کار اس ہفتے امریکا سمیت بڑی معیشتوں کے اہم معاشی اعداد و شمار پر نظریں جمائے ہوئے ہیں۔
یورو اور برطانوی پاؤنڈ دونوں ڈالر کے مقابلے میں 0.1 فیصد کمزور ہوئے، یورو 1.1379 ڈالر جبکہ پاؤنڈ 1.3232 ڈالر کی سطح پر رہا، دونوں کرنسیاں کئی ماہ کی کم ترین سطحوں کے قریب موجود ہیں۔
ڈالر انڈیکس، جو امریکی کرنسی کو دیگر بڑی کرنسیوں کے مقابلے میں جانچتا ہے، 101.15 کی سطح پر معمولی اضافے کے ساتھ رہا اور ستمبر میں تقریباً 1.7 فیصد اضافے کی جانب گامزن ہے، جو جون کے بعد اس کا بہترین ماہانہ اضافہ ہوگا۔
دوسری جانب تیل کی قیمتوں میں بھی ایک فیصد سے زیادہ اضافہ ہوا اور برینٹ خام تیل کی قیمت 106 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرگئی۔ امریکا ایران تنازع اور آبنائے ہرمز سے متعلق غیر یقینی صورتحال نے توانائی کی عالمی سپلائی کے خدشات میں اضافہ کیا ہے۔
امریکا میں مہنگائی کے خدشات اور مضبوط معاشی بنیادوں کے باعث سرمایہ کار امریکی فیڈرل ریزرو کی آئندہ پالیسی پر بھی توجہ مرکوز کیے ہوئے ہیں۔ بلند شرح سود کے امکانات نے بھی ڈالر کو سہارا دیا ہے۔
مارکیٹ کی توجہ رواں ہفتے امریکی افراط زر اور روزگار کے اعداد و شمار پر رہے گی، جبکہ چین، جاپان اور یورو زون کے معاشی اعداد و شمار بھی سرمایہ کاروں کے لیے اہم ہوں گے۔
جاپانی ین 0.3 فیصد کمی کے بعد 157.7 فی ڈالر پر آگیا، آسٹریلوی ڈالر 0.07 فیصد کمی کے ساتھ 0.7017 ڈالر جبکہ نیوزی لینڈ کا ڈالر 0.5661 ڈالر پر مستحکم رہا۔
ادھر آف شور چینی یوآن بھی کمزور ہوکر 6.7235 فی ڈالر پر آگیا۔