تازہ ترین

ٹرمپ نے ایران کی 7 روزہ جنگ بندی اور آبنائے ہرمز کھولنے کی تجویز مسترد کردی

0

واشنگٹن: امریکا اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی کم کرنے کی سفارتی کوششوں کو ایک بار پھر دھچکا لگا ہے، جہاں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کی جانب سے 7 روزہ جنگ بندی اور آبنائے ہرمز کو تجارتی جہاز رانی کے لیے دوبارہ کھولنے کی تجویز مسترد کردی ہے۔

امریکی حکام کے حوالے سے سامنے آنے والی رپورٹ کے مطابق ایران نے قطر اور دیگر علاقائی ثالثوں کے ذریعے واشنگٹن کو ایک امن منصوبہ پیش کیا تھا، جس میں آبنائے ہرمز کھولنے اور جوہری مذاکرات دوبارہ شروع کرنے کے بدلے امریکی جانب سے ایرانی بندرگاہوں کی بحری ناکہ بندی ختم کرنے، منجمد اثاثے بحال کرنے اور تیل کی برآمدات پر عائد پابندیاں اٹھانے کی تجویز شامل تھی۔

رپورٹ کے مطابق امریکی حکام نے واضح کیا ہے کہ صدر ٹرمپ فی الحال ایران پر عائد بحری ناکہ بندی ختم کرنے کا ارادہ نہیں رکھتے۔ امریکی انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق واشنگٹن کے مطالبات پر تہران کے عملدرآمد کے حوالے سے شکوک موجود ہیں۔

امریکی حکام کے مطابق صدر ٹرمپ نے اپنے مشیروں اور اعلیٰ حکام سے گفتگو میں نومبر کے وسط مدتی انتخابات کے بعد ایران کے خلاف دوبارہ فوجی کارروائی شروع کرنے کے امکان کا اظہار کیا ہے۔ تاہم ان کے مطابق انتخابات سے قبل کسی بڑے فوجی تصادم سے گریز کیا جا رہا ہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ انتخابات کے بعد ایران کے خلاف فضائی اور ڈرون حملوں میں اضافے کا امکان زیرغور ہے، جبکہ امریکی انتظامیہ کا خیال ہے کہ شدید معاشی دباؤ کے ذریعے تہران کو واشنگٹن کی شرائط پر معاہدے کے لیے آمادہ کیا جا سکتا ہے۔

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے موقع پر قطر اور دیگر خلیجی ممالک کی ثالثی کے باوجود امریکا اور ایران کے درمیان موجود تعطل ختم نہیں ہوسکا۔ دونوں ممالک کے درمیان جنگ بندی، آبنائے ہرمز، اقتصادی پابندیوں اور جوہری مذاکرات سمیت متعدد معاملات پر اختلافات برقرار ہیں۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.