مصنوعی ذہانت بےقابو ہوئی تو کیا ہوگا؟ ماہر نے اہم خطرے سے خبردار کردیا
مصنوعی ذہانت کی تیز رفتار ترقی نے دنیا بھر میں جہاں نئی سہولتوں اور امکانات کے دروازے کھول دیے ہیں، وہیں اس ٹیکنالوجی کے بےقابو ہونے کے خدشات پر بھی بحث تیز ہوگئی ہے۔ ٹیکنالوجی ماہر آصف پیر نے خبردار کیا ہے کہ اے آئی کو انسانی نگرانی اور واضح حفاظتی حدود کے بغیر مکمل خودمختاری دینا خطرناک ثابت ہوسکتا ہے۔
اے آر وائی نیوز کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے آصف پیر نے کہا کہ مصنوعی ذہانت موجودہ صدی کی اہم ترین ٹیکنالوجی میں شامل ہے، اس لیے اسے روکنے کے بجائے ذمہ داری کے ساتھ استعمال کرنے کے اصول وضع کرنے کی ضرورت ہے۔
ان کے مطابق اے آئی سے معلومات، جوابات اور تحقیق حاصل کرنے میں مدد لی جاسکتی ہے، لیکن اس ٹیکنالوجی کی بنیاد پر کیے جانے والے فیصلوں اور اقدامات کی ذمہ داری انسانوں پر ہی رہنی چاہیے۔ اگر اے آئی ایجنٹس کو مکمل اختیار دے دیا جائے اور وہ انسانی نگرانی کے بغیر خود فیصلے کرتے ہوئے کام شروع کردیں تو اسے ذمہ دارانہ استعمال قرار نہیں دیا جاسکتا۔
آصف پیر نے اے آئی کے محفوظ استعمال کے لیے تین بنیادی اصولوں کی نشاندہی کی۔ ان کے مطابق اے آئی ایجنٹس انسانی کنٹرول میں رہیں، انہیں انسانی مقاصد سے ہم آہنگ رکھا جائے اور ان کی سرگرمیوں کے لیے واضح حفاظتی حدود مقرر ہوں۔
ٹیکنالوجی ماہر کا کہنا تھا کہ اے آئی جس رفتار سے ترقی کررہی ہے، اس کے مقابلے میں اسے ریگولیٹ کرنے اور حفاظتی نظام بنانے کا عمل پیچھے رہ گیا ہے۔ اسی لیے ایسے نظام تیار کرنا ضروری ہے جو کسی ہنگامی صورت میں اے آئی کے اختیارات کو محدود یا اسے روک سکیں۔
انہوں نے کہا کہ اے آئی ماڈلز اور ان سے بننے والے ٹولز میں حفاظتی اصول ابتدا ہی سے شامل کیے جانے چاہئیں۔ چاہے ٹیکنالوجی کسی بڑی کمپنی کی ہو یا اوپن سورس، اسے استعمال کرتے وقت اخلاقی اصولوں اور ذمہ دارانہ اے آئی کے تقاضوں کو نظر انداز نہیں کیا جانا چاہیے۔
ان کے مطابق مصنوعی ذہانت اس وقت تیزی سے تجربات اور ترقی کے مرحلے سے گزر رہی ہے اور مختلف ٹیکنالوجی کمپنیاں جدید ماڈلز تیار کرنے کی کوشش کررہی ہیں۔ دوسری جانب صحت، تعلیم، تحقیق، دفاع اور سائبر سیکیورٹی سمیت کئی شعبوں میں اے آئی کے عملی فوائد بھی سامنے آ رہے ہیں۔
آصف پیر نے عالمی سطح پر اے آئی کے لیے مشترکہ اصول اور ضابطہ کار بنانے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔ ان کے مطابق چونکہ مصنوعی ذہانت کسی ایک ملک تک محدود ٹیکنالوجی نہیں رہی، اس لیے مختلف ممالک اور کمپنیوں کے درمیان ذمہ دارانہ استعمال کے حوالے سے مشترکہ فریم ورک پر بات چیت ضروری ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ اے آئی ایجنٹس کو واضح اجازتوں اور متعین حدود کے اندر کام کرنا چاہیے تاکہ انہیں معلوم ہو کہ کون سے اقدامات کی اجازت ہے اور کن کاموں سے انہیں روکا جانا ہے۔ انسانی نگرانی، واضح مقاصد اور مضبوط حفاظتی نظام ہی اے آئی کے محفوظ مستقبل کی بنیاد بن سکتے ہیں۔