کراچی: متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کے مرکزی رہنما ڈاکٹر فاروق ستار نے دعویٰ کیا ہے کہ سندھ میں 6 انتظامی یونٹس بننے جا رہے ہیں اور ان یونٹس کا اختیار صوبے کے عوام کو دیا جائے گا۔
کراچی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے فاروق ستار نے کہا کہ ایم کیو ایم ضلع وسطی کی جانب سے ریلی کا انعقاد کیا جا رہا ہے، جس کا مقصد عوام کے حقوق کے لیے جدوجہد کرنا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ملک بھر میں بدعنوانی اور بدانتظامی کے مسائل موجود ہیں جبکہ ان کے بقول سندھ اس معاملے میں دیگر صوبوں سے آگے ہے۔
فاروق ستار نے کہا کہ جب طرز حکمرانی خراب ہوجائے تو اختیارات کی منتقلی ضروری ہوجاتی ہے، سندھ میں اختیارات نچلی سطح تک منتقل کرنا اب ناگزیر ہوچکا ہے کیونکہ صوبے کے عوام بنیادی سہولتوں اور اپنے حقوق سے محروم ہیں۔
انہوں نے الزام عائد کیا کہ سندھ میں بدعنوانی کے نئے ریکارڈ قائم ہوئے ہیں اور پاکستان بنانے والوں کی نئی نسل کو نظر انداز کیا جا رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ سندھ کے عوام حکمرانوں کی تقاریر اور اشتعال انگیزی قبول نہیں کریں گے۔
ایم کیو ایم رہنما نے کہا کہ ریلی کے ذریعے ایک سیاسی تحریک کا آغاز کیا جا رہا ہے اور وہ دھمکیوں سے خوفزدہ نہیں ہوں گے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ سندھ کے عوام میں باہمی اختلافات اور فسادات پیدا کرنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔
فاروق ستار نے مزید الزام عائد کیا کہ حکمرانوں کے گھروں کے تہہ خانوں سے اربوں ڈالر برآمد ہوتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سکھر، نواب شاہ، میرپورخاص اور کراچی کے عوام حکمرانوں کا احتساب کریں گے۔
ان کا کہنا تھا کہ سندھ میں 6 انتظامی یونٹس بننے جا رہے ہیں، جن میں لاڑکانہ، سکھر، نواب شاہ اور کراچی سمیت دیگر یونٹس شامل ہوں گے، جبکہ ان انتظامی یونٹس کا اختیار کسی فرد یا مخصوص طبقے کے بجائے عوام کو دینے کی بات کی جا رہی ہے۔