طالبان کی امریکا سے سفارتی تعلقات بحالی کی خواہش، معدنیات میں سرمایہ کاری کی پیشکش
کابل: افغانستان میں طالبان حکومت نے امریکا کے ساتھ تعلقات میں نئی شروعات کی خواہش ظاہر کرتے ہوئے واشنگٹن سے سفارتی روابط بحال کرنے اور کابل میں امریکی سفارتخانہ دوبارہ کھولنے کی دعوت دے دی ہے۔
افغان وزیر خارجہ امیر خان متقی کا کہنا ہے کہ افغانستان اور امریکا کے تعلقات کو گزشتہ 20 سال کی جنگ کے تناظر کے بجائے مستقبل میں باہمی تعاون اور مشترکہ مفادات کی بنیاد پر آگے بڑھایا جانا چاہیے۔ انہوں نے امریکا کو افغانستان میں معدنیات، بنیادی ڈھانچے، زراعت اور تجارت سمیت مختلف شعبوں میں سرمایہ کاری کی پیشکش بھی کی ہے۔
طالبان حکومت کا کہنا ہے کہ افغانستان کے وسیع معدنی وسائل میں امریکی سرمایہ کاری دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی تعاون کے نئے راستے کھول سکتی ہے۔ افغانستان میں تانبے، لوہے، لیتھیم، کوبالٹ، سونے اور دیگر معدنی ذخائر کی بڑی مقدار موجود ہونے کے تخمینے سامنے آچکے ہیں۔
طالبان کی جانب سے یہ پیشکش ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب کابل بین الاقوامی سطح پر سفارتی اور اقتصادی روابط بڑھانے کی کوشش کر رہا ہے۔ طالبان حکام نے امریکی سفارتخانے کی دوبارہ فعالیت اور مستقل سفارتی موجودگی کی بھی خواہش ظاہر کی ہے۔
دوسری جانب طالبان حکومت امریکی پابندیوں میں نرمی اور بیرون ملک منجمد افغان اثاثوں سے متعلق پیش رفت کی بھی خواہاں ہے، تاہم واشنگٹن اور کابل کے درمیان تعلقات کی مکمل بحالی کے لیے کئی اہم معاملات اب بھی زیرِ بحث ہیں۔