تازہ ترین

ایران جنگ، امریکی فوجی اڈوں کو پہنچنے والے نقصان کی نئی تفصیلات سامنے آگئیں

0

واشنگٹن: ایران کے میزائل اور ڈرون حملوں کے بعد مشرق وسطیٰ میں امریکی فوجی تنصیبات کو پہنچنے والے نقصانات کی نئی تصاویر سامنے آگئی ہیں، جن میں سعودی عرب اور کویت میں موجود امریکی اڈوں پر تباہ شدہ طیارے، رہائشی سہولیات، گاڑیاں اور دیگر فوجی تنصیبات دکھائی گئی ہیں۔

دستیاب تصاویر امریکی فوجی اہلکاروں کی جانب سے فراہم کیے جانے کا دعویٰ کیا گیا ہے، تاہم ان تصاویر میں دکھائے گئے بعض مخصوص نقصانات کی آزادانہ طور پر مکمل تصدیق نہیں ہوسکی۔

سعودی عرب کے پرنس سلطان ایئر بیس سے منسوب ایک تصویر میں بوئنگ ای-3 سینٹری طیارہ شدید متاثرہ حالت میں دکھائی دیتا ہے، جبکہ دیگر تصاویر میں عمارتوں اور رہائشی سہولیات کو پہنچنے والے نقصانات بھی نظر آتے ہیں۔

کویت کے کیمپ بیوہرنگ سے متعلق تصاویر میں تباہ شدہ رہائشی ٹریلرز، گاڑیاں اور دیگر ڈھانچے دکھائی دیتے ہیں، جبکہ کیمپ عریفجان سے متعلق تصاویر میں بھی عمارتوں اور تنصیبات کو نقصان پہنچنے کے آثار سامنے آئے ہیں۔

امریکی محکمہ دفاع کے انسپکٹر جنرل کی رپورٹ کے مطابق ایرانی حملوں سے کویت، بحرین، قطر، متحدہ عرب امارات، سعودی عرب، عراق، عمان اور اردن میں امریکی فوجی اڈوں پر سینکڑوں عمارتیں اور دیگر ڈھانچے متاثر یا تباہ ہوئے۔ رپورٹ میں امریکی فوجی سازوسامان کے نقصانات کا تخمینہ تقریباً 3.7 ارب ڈالر لگایا گیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق جنگ کے دوران درجنوں امریکی طیارے بھی تباہ یا متاثر ہوئے، جبکہ مجموعی جنگی اخراجات 29 جون تک 33.4 ارب ڈالر تک پہنچ چکے تھے۔ بعد ازاں کانگریشنل بجٹ آفس کے مطابق ایران جنگ کی مجموعی لاگت تقریباً 38 ارب ڈالر تک پہنچ گئی۔

پرنس سلطان ایئر بیس سے منسوب تباہ شدہ ای-3 سینٹری طیارہ فضائی نگرانی، ابتدائی وارننگ اور ممکنہ اہداف کی نشاندہی کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ دستیاب معلومات کے مطابق اس طیارے کو پہنچنے والا نقصان امریکی فوجی وسائل پر حملوں کے نمایاں اثرات میں شمار کیا جارہا ہے۔

کانگریشنل بجٹ آفس کی رپورٹ کے مطابق ای-3 طیاروں کی تیاری اب نہیں ہوتی، اس لیے مستقبل میں ان کی جگہ جدید ای-7 طیاروں کی ضرورت پڑسکتی ہے۔ رپورٹ میں ایک ای-3 طیارے کی قیمت تقریباً 50 کروڑ ڈالر بتائی گئی ہے۔

رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا کہ امریکی فوجی طیاروں، ڈرونز اور دیگر دفاعی نظام کو پہنچنے والے نقصانات کا تخمینہ تقریباً 1.9 ارب ڈالر لگایا گیا، تاہم اس تخمینے میں غیر یقینی موجود ہے کیونکہ تمام مطلوبہ معلومات دستیاب نہیں تھیں۔

ایران اور امریکا کے درمیان جاری جنگ کے باعث خطے میں امریکی فوجی موجودگی اور دفاعی صلاحیتوں سے متعلق بھی سوالات اٹھ رہے ہیں۔ اسی دوران امریکی ایوان نمائندگان میں ایران کے خلاف جنگ کے خاتمے سے متعلق اقدام کی حمایت میں ووٹنگ ہوئی، جس کا مقصد صدر کو کانگریس کی منظوری کے بغیر مزید فوجی کارروائی جاری رکھنے سے روکنے کی کوشش کرنا ہے۔

دوسری جانب امریکی انتظامیہ نے ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں کا دفاع کیا ہے، جبکہ جنگ کے بڑھتے اخراجات اور امریکی فوجی وسائل کو پہنچنے والے نقصانات پر امریکی سیاسی حلقوں میں بحث بھی جاری ہے۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.