ایران، خلیجی ممالک میں آبنائے ہرمز معاہدے پر مذاکرات ملتوی
مسقط: آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کے انتظام اور ممکنہ عارضی فریم ورک پر ایران اور خلیجی ممالک کے درمیان پیر کو عمان میں ہونے والا اہم اجلاس ملتوی کردیا گیا ہے، جبکہ اجلاس کی نئی تاریخ بعد میں طے کی جائے گی۔
عمان کے وزیر خارجہ بدر البوسعیدی نے کہا ہے کہ صلالہ میں ہونے والا علاقائی اجلاس ’’مشترکہ مفاد میں‘‘ ملتوی کیا گیا۔ ان کے مطابق عمان خطے میں استحکام اور دیرپا تعاون کیلئے مکالمے کے فروغ کیلئے پرعزم ہے۔
ایرانی خبر رساں ایجنسی فارس نے وزارت خارجہ کے ایک عہدیدار کے حوالے سے بتایا کہ اجلاس بعض علاقائی ممالک کی درخواست پر ملتوی کیا گیا اور یہ فیصلہ تہران و مسقط نے باہمی مشاورت سے کیا۔ ایرانی عہدیدار کے مطابق اجلاس کیلئے موزوں تاریخ کے تعین پر عمان کے ساتھ رابطہ کیا جائے گا۔
خلیجی ذریعے کے مطابق اجلاس میں خلیجی عرب ممالک کے وزرائے خارجہ اور ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کی شرکت متوقع تھی، تاہم مذاکرات کی شرائط پر اختلافات کے باعث اجلاس ملتوی کیا گیا۔ نئی تاریخ بعد میں طے ہوگی۔
یہ اجلاس عمان اور ایران کی اس کوشش کا حصہ تھا جس کا مقصد آبنائے ہرمز کے ذریعے تجارتی جہاز رانی کے انتظام کیلئے ایک عارضی فریم ورک تشکیل دینا تھا۔ یہ آبی گزرگاہ عالمی تیل کی برآمدات کیلئے انتہائی اہم سمجھی جاتی ہے۔
تہران کے مطابق اجلاس میں عراق اور خلیجی ممالک نے شریک ہونا تھا، تاہم کسی خلیجی ملک نے باضابطہ طور پر شرکت کی تصدیق نہیں کی تھی، جبکہ بحرین اجلاس میں شرکت سے انکار کرچکا تھا۔
اجلاس کا التوا سعودی عرب کے اس فیصلے کے فوراً بعد سامنے آیا ہے جس کے تحت ریاض نے فی الحال اپنی اس پائپ لائن کو بند کرنے کا فیصلہ کیا ہے جو آبنائے ہرمز کو بائی پاس کرتے ہوئے مشرق وسطیٰ کے تیل کی ترسیل کا اہم راستہ رہی ہے۔