پٹرولیم لیوی ختم نہ کی تو حکومت کے خلاف فیصلہ کن تحریک چلائیں گے، حافظ نعیم
اسلام آباد: جماعت اسلامی پاکستان کے امیر انجینئر حافظ نعیم الرحمٰن نے حکومت کو خبردار کیا ہے کہ اگر پٹرولیم لیوی ختم نہ کی گئی تو جماعت اسلامی اپنی جاری احتجاجی تحریک کو حکومت کے خاتمے کی مہم میں تبدیل کرنے پر مجبور ہوگی۔ انہوں نے پٹرولیم لیوی کو عوام پر ناجائز اضافی بوجھ قرار دیتے ہوئے فوری طور پر واپس لینے کا مطالبہ بھی کیا۔
وہ ہفتے کے روز وفاقی دارالحکومت کے آبپارہ چوک میں جماعت اسلامی کی خواتین کے احتجاجی اجتماع سے خطاب کر رہے تھے۔ حافظ نعیم الرحمٰن نے ایک بار پھر 20 ستمبر کو اسلام آباد کی جانب ملک گیر مارچ کی کال کا اعادہ کیا۔
اجتماع سے جماعت اسلامی شعبہ خواتین کی قائم مقام سیکریٹری جنرل ثمینہ سعید، اسلام آباد شعبہ خواتین کی سربراہ قدسیہ ناموس، جماعت اسلامی اسلام آباد کے امیر انجینئر نصر اللہ رندھاوا اور سیکریٹری زبیر صفدر نے بھی خطاب کیا، جبکہ جماعت اسلامی کے سیکریٹری اطلاعات شکیل احمد ترابی سمیت دیگر رہنما اور خواتین بھی موجود تھیں۔
حافظ نعیم الرحمٰن نے کہا کہ عوام پٹرولیم لیوی کی صورت میں وصول کیا جانے والا یہ اضافی ٹیکس قبول نہیں کرسکتے۔ حکمران عوام پر مزید ٹیکس عائد کرنے کے بجائے اپنے شاہانہ اخراجات کم کریں۔ سرکاری عہدے داروں کی مراعات، مہنگی گاڑیوں، مفت ایندھن اور مفت بجلی جیسی سہولتوں کا خاتمہ کیا جانا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ قوم خیرات نہیں بلکہ جینے کا حق اور اپنے آئینی حقوق چاہتی ہے۔ مسلسل مہنگائی اور پٹرول و بجلی کی بڑھتی ہوئی قیمتوں نے عام شہریوں کی مشکلات میں اضافہ کردیا ہے، یہاں تک کہ متوسط طبقہ بھی گھریلو اخراجات پورے کرنے کیلئے پریشان ہے جبکہ غریب خاندانوں کیلئے دو وقت کی روٹی کا انتظام بھی مشکل ہوتا جارہا ہے۔
جماعت اسلامی کے امیر نے پٹرول کی قیمت میں کمی اور پٹرولیم لیوی کے فوری خاتمے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ مہنگائی سے خواتین سب سے زیادہ متاثر ہورہی ہیں۔ انہیں بچوں کی تعلیمی فیس، بجلی کے بل، راشن اور دیگر گھریلو ضروریات میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنا پڑ رہا ہے۔
انہوں نے حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بڑھنے پر پٹرول مہنگا کردیا جاتا ہے، لیکن جب عالمی سطح پر قیمتیں کم ہوتی ہیں تو عوام کو اسی تناسب سے ریلیف نہیں دیا جاتا اور پٹرولیم لیوی بدستور وصول کی جاتی ہے۔
حافظ نعیم الرحمٰن نے کہا کہ عوام پٹرول، بجلی، اشیائے خورونوش، موبائل فون کارڈز اور دیگر بنیادی ضروریات پر مختلف ٹیکس ادا کررہے ہیں، جبکہ اشرافیہ کو ٹیکس چھوٹ اور مختلف مراعات حاصل ہیں۔ دوسری جانب حکومتی اخراجات اور حکمرانوں کے شاہانہ طرز زندگی پر قابو نہیں پایا جارہا، جبکہ تعلیم، صحت اور زراعت جیسے اہم شعبے متاثر ہورہے ہیں۔
پنجاب میں تعلیمی صورتحال کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بڑی تعداد میں طلبہ و طالبات نویں جماعت کے امتحانات میں ناکام ہوئے ہیں۔ ریاست کی ذمہ داری ہے کہ ہر بچے کو معیاری اور مساوی تعلیم فراہم کرے۔ انہوں نے سرکاری اسکولوں کی فروخت پر بھی سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ عوام کے پیسے سے تعمیر کیے گئے اسکولوں کو فروخت کرنے کا اختیار کسی کو نہیں ہونا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ بڑھتی ہوئی پٹرول کی قیمتوں کا سب سے زیادہ بوجھ خواتین اور یومیہ اجرت پر کام کرنے والے افراد برداشت کررہے ہیں۔ گھریلو اخراجات پورے کرنے کیلئے بہت سے افراد کو دو ملازمتیں کرنا پڑ رہی ہیں جبکہ لاکھوں دیہاڑی دار مزدور بنیادی روزگار کے حقوق سے بھی محروم ہیں۔
حافظ نعیم الرحمٰن نے کہا کہ اگر پٹرول 386 روپے فی لیٹر میں فروخت ہورہا ہے تو اس قیمت میں 130 روپے سے زائد مختلف ٹیکسوں کی مد میں شامل ہیں۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ عوام پر بوجھ بڑھانے کے بجائے سرکاری گاڑیوں، مراعات اور دیگر غیر ضروری اخراجات کم کیوں نہیں کیے جاتے۔
انہوں نے پٹرولیم لیوی برقرار رکھنے کیلئے بار بار عالمی مالیاتی ادارے کا حوالہ دینے پر بھی حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا اور سوال کیا کہ کیا حکمران اپنے طیاروں، مہنگی گاڑیوں اور دیگر شاہانہ سہولتوں کے استعمال کیلئے بھی عالمی مالیاتی ادارے سے اجازت لیتے ہیں؟ انہوں نے کہا کہ اگر عالمی مالیاتی ادارہ جاگیرداروں اور دولت مند طبقے پر ٹیکس عائد کرنے کا مطالبہ کرے تو حکومت کو وہ اقدامات بھی نافذ کرنے چاہئیں۔
جماعت اسلامی کے امیر نے کہا کہ ملک بھر میں جماعت اسلامی کے دھرنوں اور احتجاجی سرگرمیوں کا سلسلہ جاری رہے گا اور 35 سے 40 مقامات پر احتجاج کیا جارہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ 20 ستمبر کو اسلام آباد میں تاریخی مارچ ہوگا جس میں ملک بھر سے عوام کی بڑی تعداد شریک ہوگی۔
انہوں نے کہا کہ حکومت نے مارچ روکنے کیلئے کنٹینرز لگانا شروع کردیئے ہیں، تاہم جماعت اسلامی پرامن رہے گی اور اپنے جمہوری حق کو استعمال کرتے ہوئے مختلف راستوں سے اسلام آباد پہنچے گی۔
حافظ نعیم الرحمٰن نے ملک بھر میں احتجاجی تحریک میں شریک خواتین کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ یہ تحریک اب صرف جماعت اسلامی کی نہیں بلکہ عوام کی آواز بن چکی ہے۔