تازہ ترین

پاکستان اور آسٹریلیا میں سرمایہ کاری معاہدے کی تجدید پر اتفاق

0

لاہور: پاکستان اور آسٹریلیا نے دوطرفہ سرمایہ کاری معاہدے کو جدید تقاضوں کے مطابق اپ ڈیٹ کرنے کے عمل کو رواں سال دسمبر تک مکمل کرنے کا ہدف مقرر کیا ہے، جبکہ آسٹریلوی ہائی کمشنر نے امید ظاہر کی ہے کہ نیا معاہدہ پاکستان میں آسٹریلوی سرمایہ کاری کے لیے مثبت ماحول پیدا کرے گا۔

آسٹریلوی ہائی کمشنر ٹموتھی کین نے لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور آسٹریلیا کے درمیان موجود Bilateral Investment Treaty 1998 سے نافذ ہے، تاہم دونوں ممالک کی بدلتی ہوئی معاشی ضروریات کے پیش نظر اسے جدید بنانا ضروری ہے۔

انہوں نے کہا کہ معاہدے کی تکمیل آسٹریلوی سرمایہ کاروں کے لیے پاکستان میں موجود investment opportunities کے حوالے سے ایک مثبت پیغام ثابت ہوگی۔ آسٹریلیا پاکستان میں کان کنی، زراعت، لائیو اسٹاک، تعلیم، فارماسیوٹیکلز اور بائیوٹیکنالوجی سمیت مختلف شعبوں میں تعاون بڑھانے کا خواہاں ہے۔

لاہور چیمبر کے صدر فہیم الرحمان سیگل نے دونوں ممالک کے درمیان تجارتی و معاشی روابط مزید مضبوط بنانے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ دوطرفہ تجارت میں کمی کا رجحان تشویش کا باعث ہے۔ انہوں نے پاکستان اور آسٹریلیا کے درمیان تجارت کو 3 ارب ڈالر تک بڑھانے کی تجویز بھی پیش کی۔

انہوں نے پاکستان آسٹریلیا جوائنٹ ٹریڈ کمیٹی کا اجلاس جلد بلانے اور ترجیحی تجارتی معاہدے کے لیے مذاکرات شروع کرنے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔ ان کے مطابق ٹیکسٹائل، چاول، سرجیکل آلات، کھیلوں کا سامان، انجینئرنگ مصنوعات، لیدر، خوراک، فرنیچر، قالین اور معدنی مصنوعات پاکستان کی برآمدات میں اضافے کے لیے اہم شعبے ہیں۔

آسٹریلوی ہائی کمشنر نے کہا کہ آسٹریلیا پاکستان سے مزید برآمدات اور آسٹریلوی مارکیٹ میں پاکستانی سرمایہ کاری کا خواہاں ہے۔ انہوں نے کان کنی، زراعت، تعلیم اور ٹیکنالوجی سمیت مختلف شعبوں میں تعاون کے وسیع امکانات پر بھی روشنی ڈالی۔

آسٹریلوی حکومت کے مطابق پاکستان کے ساتھ موجود سرمایہ کاری معاہدہ 14 اکتوبر 1998 کو نافذ ہوا تھا اور دونوں ممالک اس پر نظرثانی کے مذاکرات 2026 میں مکمل کرنے کے لیے کام کر رہے ہیں۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.