پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے دفاعی اتحاد میں ایران کی شمولیت پر غور
اسلام آباد: پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان قائم ہونے والے دفاعی اتحاد میں ایران کی ممکنہ شمولیت نے خطے کے مستقبل کے دفاعی ڈھانچے کے حوالے سے نئی بحث چھیڑ دی ہے، جبکہ روس نے تہران کو اس اتحاد کا حصہ بنانے کی خواہش کا اظہار کیا ہے۔
روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے ماسکو اسٹیٹ انسٹی ٹیوٹ آف انٹرنیشنل ریلیشنز میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ریاض، ترکیہ اور پاکستان کی مدد سے علاقائی ممالک کے درمیان تعاون کو منظم کرنے کا وقت آگیا ہے۔ ان کے مطابق یہ تینوں ممالک اجتماعی سلامتی اور دفاعی تعاون کا ایک تصور رکھتے ہیں۔
پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ نے 7 اگست کو دفاعی معاہدے پر دستخط کیے تھے، جس کے تحت تینوں ممالک میں سے کسی ایک پر مسلح حملے کو تمام ممالک پر حملہ تصور کیا جائے گا۔ تینوں حکومتیں واضح کرچکی ہیں کہ یہ معاہدہ کسی مخصوص ملک کے خلاف نہیں اور مستقبل میں دیگر علاقائی ممالک کے لیے بھی اس کے دروازے کھلے رہ سکتے ہیں۔
سرگئی لاوروف نے اسی پہلو کو بنیاد بناتے ہوئے کہا کہ مستقبل میں اس اتحاد میں خلیجی خطے سے باہر کے ممالک، بشمول مصر، بھی شامل ہوسکتے ہیں، جبکہ ایران کو بھی اس عمل کا حصہ بنانے کے لیے حالات پیدا کیے جاسکتے ہیں۔
روس کے لیے ایران کی شمولیت صرف ایک نئے ملک کو دفاعی اتحاد میں شامل کرنے کا معاملہ نہیں بلکہ یہ اس علاقائی سلامتی کے تصور کی جانب عملی قدم ہوگا جس کی ماسکو گزشتہ دو دہائیوں سے حمایت کرتا آیا ہے۔
روس طویل عرصے سے مؤقف رکھتا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ کے ممالک کو امریکا پر بنیادی انحصار کے بجائے اپنا علاقائی سلامتی کا نظام تشکیل دینا چاہیے۔ ماہرین کے مطابق ماسکو کی بنیادی دلچسپی ایسے دفاعی ڈھانچے کے قیام میں ہے جس سے خطے میں امریکا کا غالب سکیورٹی کردار محدود ہو اور روس و چین کے لیے سیاسی و سفارتی اثر و رسوخ بڑھانے کی گنجائش پیدا ہو۔
تاہم ایران اور سعودی عرب کے درمیان اعتماد کا فقدان اس منصوبے کی راہ میں بڑی رکاوٹ ہے۔ ماہرین کے مطابق کسی مؤثر دفاعی اتحاد کے لیے فوجی تعاون، انٹیلی جنس معلومات کا تبادلہ اور باہمی اعتماد ضروری ہوتا ہے، جبکہ ریاض اور تہران کے درمیان ابھی یہ سطح موجود نہیں۔
یمن، لبنان اور عراق میں ایران سے وابستہ گروہوں کی سرگرمیاں بھی سعودی عرب کے لیے باعثِ تشویش ہیں، جس کے باعث تہران کی فوری شمولیت آسان دکھائی نہیں دیتی۔
یہ بحث ایسے وقت میں مزید اہم ہوگئی ہے جب ایران سے وابستہ حوثیوں نے سعودی عرب پر ڈرون اور میزائل حملے کیے ہیں۔ سعودی حکام کے مطابق ان حملوں میں خواتین اور بچوں سمیت 73 شہری زخمی ہوئے۔
دوسری جانب ایران نے بھی اس ممکنہ علاقائی دفاعی ڈھانچے کے دروازے مکمل طور پر بند نہیں کیے۔ 22 اگست کو ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکریٹری محسن رضائی نے کہا تھا کہ ایران اپنی شرائط پر مکہ کے دفاعی ڈھانچے کا حصہ بن سکتا ہے۔
محسن رضائی کے مطابق ایران کو اس اتحاد میں شریک بانی کی حیثیت دی جانی چاہیے اور معاہدے کی بنیادی دستاویزات کی تیاری میں بھی اسے کردار ملنا چاہیے۔ انہوں نے یہ مؤقف بھی اختیار کیا کہ ایران اور مصر جیسے اہم ممالک کو ایسے علاقائی سلامتی کے انتظام سے باہر نہیں رکھا جاسکتا۔
تاہم یہ مؤقف بھی ایک نئی رکاوٹ پیدا کرسکتا ہے کیونکہ پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ پہلے ہی اتحاد قائم کرچکے ہیں جبکہ ایران محض رکن بننے کے بجائے اس کے بنیادی ڈھانچے کی تشکیل میں اپنا کردار چاہتا ہے۔
ایران کے اندر بعض سخت گیر حلقے بھی مکہ دفاعی معاہدے کو ایک مخصوص مسلکی اتحاد سمجھتے ہیں، جس کے باعث تہران کی فوری شمولیت مزید مشکل ہوسکتی ہے۔ تاہم چاروں ممالک کو اسرائیل کے بڑھتے ہوئے علاقائی کردار پر بعض مشترکہ خدشات بھی ہیں، جو مستقبل میں تعاون کے لیے بنیاد فراہم کرسکتے ہیں۔
مکہ معاہدہ محض مذہبی اتحاد نہیں بلکہ ایک علاقائی سلامتی کا ڈھانچہ بن سکتا ہے، جس میں مستقبل میں ایران، مصر، اردن، عراق اور خلیجی ممالک سمیت مزید ریاستیں شامل ہوسکتی ہیں۔
اگر ایران بھی اس اتحاد کا حصہ بن جاتا ہے تو یہ تین ممالک کے دفاعی انتظام سے آگے بڑھ کر ایک وسیع علاقائی سلامتی کے نظام میں تبدیل ہوسکتا ہے۔ ایسی صورت میں روس اور چین کے لیے بھی خطے میں سفارتی اور تزویراتی تعلقات مضبوط بنانے کے نئے امکانات پیدا ہوں گے۔
سرگئی لاوروف کے یہ بیانات سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان سے ماسکو میں ملاقات سے ایک روز قبل سامنے آئے تھے۔ سعودی سرکاری ذرائع کے مطابق دونوں وزرائے خارجہ نے علاقائی و عالمی صورتحال، کشیدگی کم کرنے اور تنازعات میں کمی لانے کی کوششوں پر تبادلہ خیال کیا، تاہم سرکاری بیان میں ایران کی ممکنہ شمولیت کے معاملے پر کوئی وضاحت نہیں کی گئی۔