کراچی کو سندھ سے الگ کرنے کی کوشش؟ سلمان اکرم راجہ کا بڑا دعویٰ
کراچی کو سندھ سے الگ کرنے کی بحث ایک بار پھر شدت اختیار کر گئی ہے، جبکہ پاکستان تحریک انصاف کے سیکریٹری جنرل بیرسٹر سلمان اکرم راجہ نے دعویٰ کیا ہے کہ 28ویں آئینی ترمیم کے لیے پی ٹی آئی سے ووٹ مانگے جا رہے ہیں۔ ان کے مطابق مجوزہ ترمیم کے ذریعے آئین کے آرٹیکل 239 کی شق 4 ختم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے، جس کا تعلق صوبائی حدود میں تبدیلی سے ہے۔
سندھ ہائیکورٹ بار میں ایک کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ بعض حلقوں کی جانب سے تحریک انصاف کو 28ویں آئینی ترمیم کے معاملے پر ووٹ دینے کے لیے آمادہ کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
ان کے مطابق ان حلقوں کا مؤقف ہے کہ انہیں ترمیم کے لیے ووٹ درکار ہیں، جبکہ پی ٹی آئی کو بھی اس موقع سے فائدہ اٹھانے کا مشورہ دیا جا رہا ہے، کیونکہ کراچی میں پارٹی کے پاس ووٹ موجود ہیں۔
سلمان اکرم راجہ نے دعویٰ کیا کہ اس کے بدلے میں آرٹیکل 239 کی شق 4 ختم کرنے کے لیے پی ٹی آئی سے تعاون مانگا جا رہا ہے، جس سے کراچی کو سندھ سے الگ کرنے کی راہ ہموار ہوسکتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ کراچی کو سندھ سے الگ کرنے کی خواہش رکھنے والے عناصر چاہتے ہیں کہ تحریک انصاف اس منصوبے کا ساتھ دے اور آرٹیکل 239(4) کو ختم کرنے کے لیے ووٹ دے۔
تاہم بیرسٹر سلمان اکرم راجہ نے واضح کیا کہ تحریک انصاف وقتی سیاسی فائدے کے بجائے اصولی مؤقف کو ترجیح دے گی اور ایسی آئینی ترمیم کی حمایت نہیں کرے گی جو پارٹی کے نزدیک آئین سے متصادم ہو۔
آئین کے آرٹیکل 239(4) کے تحت کسی ایسی آئینی ترمیم کو صدر کی منظوری کے لیے پیش نہیں کیا جا سکتا جس سے کسی صوبے کی حدود تبدیل ہوں، جب تک متعلقہ صوبائی اسمبلی اسے اپنے کل ارکان کی کم از کم دو تہائی اکثریت سے منظور نہ کرے۔
اس شق کو ختم یا تبدیل کرنے سے صوبائی حدود میں تبدیلی کے موجودہ آئینی طریقہ کار پر اہم اثر پڑ سکتا ہے۔ حالیہ دنوں سندھ اسمبلی بھی صوبے کی تقسیم یا اس کی حدود میں تبدیلی کی تجاویز کو مسترد کرنے کا مؤقف اختیار کرچکی ہے۔