اسلام آباد: سابق وفاقی وزیر اور سینئر سیاستدان محمد علی درانی نے دعویٰ کیا ہے کہ پی ٹی آئی نے اپنی سیاسی حکمت عملی تبدیل کرلی ہے اور اب اسٹیبلشمنٹ کے خلاف محاذ آرائی کے بجائے پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) کی حکومت کے خلاف میدان میں اترے گی۔
اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے محمد علی درانی نے کہا کہ پی ٹی آئی اب حکومت کے خلاف اور صوبوں کے حقوق کی حمایت میں سیاست کرے گی۔ ان کے مطابق پی ٹی آئی نے یہ سمجھ لیا ہے کہ اسے اسٹیبلشمنٹ سے لڑنے کے بجائے سیاسی میدان میں اپنی جگہ بنانی چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ ’لندن پلان‘ دراصل جان بچاؤ پلان ہے، جس کا مقصد عوام سے اپنی جان، مال اور حکومت بچانا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ سندھ کی تقسیم سے متعلق ابھی کوئی بل سامنے نہیں آیا، تاہم پیپلز پارٹی نے اس معاملے پر شور شروع کردیا ہے۔
محمد علی درانی نے دعویٰ کیا کہ بہاولپور اور ہزارہ صوبے بنائے جائیں گے اور دیکھا جائے گا کہ انہیں کون روکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان اقدامات کی منظوری خود متعلقہ حلقوں کی جانب سے دی جا چکی ہے۔
سابق وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ ووٹ بینک نہ ہونے کے باعث پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) میں الیکٹ ایبلز کی کشش کم ہوگئی ہے۔ ان کے مطابق انتخابات سے پہلے بھی ان جماعتوں کے پاس مطلوبہ ووٹ بینک نہیں تھا اور اب سپورٹ بینک بھی ختم ہوچکا ہے۔
انہوں نے کہا کہ وہ گزشتہ ڈھائی سال سے پی ٹی آئی کو تصادم کی سیاست چھوڑ کر سیاسی انداز میں حکومت کے خلاف کردار ادا کرنے کا مشورہ دے رہے تھے۔ ان کے بقول اب پی ٹی آئی اس بات کو سمجھ چکی ہے اور اس موقع سے فائدہ اٹھانے کا فیصلہ کیا ہے۔
محمد علی درانی نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) کی جانب سے چاہے جتنی کوشش کی جائے، پی ٹی آئی اب اسٹیبلشمنٹ کے خلاف نہیں نکلے گی۔ ان کے مطابق پی ٹی آئی عوامی ووٹ بینک کے دباؤ کی وجہ سے سیاسی راستہ اختیار کرنے پر مجبور ہوئی ہے۔
انہوں نے پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ دونوں جماعتیں نہ معیشت کو درست کرسکیں اور نہ ہی عوام کو مطلوبہ ریلیف دے سکیں۔ ان کا دعویٰ تھا کہ اگر اسٹیبلشمنٹ بھی ان کے ساتھ نہ رہی تو دونوں جماعتوں کے لیے آئندہ انتخابات جیتنا مشکل ہوگا۔
ایک سوال کے جواب میں محمد علی درانی نے کہا کہ اسٹیبلشمنٹ اور عوام میں مڈل اور لوئر مڈل کلاس کی بڑی تعداد شامل ہے، جبکہ ان کے بقول مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی اب اشرافیہ کی نمائندہ جماعتیں بن چکی ہیں۔ انہوں نے مہنگے موٹر سائیکل پٹرول اور اشرافیہ کو دستیاب سہولتوں کا حوالہ بھی دیا۔
انہوں نے کہا کہ موجودہ نظام کولیپس کرچکا ہے، تاہم اس نظام کے ذمہ دار افراد امیر ہوگئے۔ ان کے مطابق پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) کی حکومتیں ایک بوجھ اور لائیبیلٹی بن چکی ہیں۔
مولانا فضل الرحمٰن کے اپوزیشن کے ساتھ ملنے سے متعلق سوال پر محمد علی درانی نے کہا کہ اصل بات یہ دیکھنا ہوگی کہ آیا پی ٹی آئی بھی مولانا فضل الرحمٰن کے ساتھ کھڑی ہوتی ہے یا نہیں۔
انہوں نے کہا کہ موجودہ سیاسی صورتحال دلچسپ مرحلے میں داخل ہوچکی ہے، جہاں مختلف سیاسی جماعتیں اپنے سیاسی مفادات اور مقبولیت بحال کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔
محمد علی درانی کے مطابق پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) کی سیاسی بقا اسی میں ہے کہ پی ٹی آئی اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ لڑتی رہے، تاہم ان کے بقول پی ٹی آئی اب اس حکمت عملی کا حصہ نہیں بنے گی۔
انہوں نے واضح کیا کہ ان کی دانستہ رائے میں پی ٹی آئی اب حکومت کے خلاف، صوبوں کے حق میں اور پیپلز پارٹی و مسلم لیگ (ن) کے خلاف سیاسی میدان میں نکلے گی۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) آپس میں دل سے جڑی ہوئی جماعتیں ہیں۔