لاہور: وزیر مملکت برائے خزانہ و محصولات و ریلوے بلال اظہر کیانی نے کہا ہے کہ نجی شعبے کو پالیسی سازی میں اہم کردار دیا جا رہا ہے اور کاروباری برادری کی تجاویز کو ترجیح دی جارہی ہے۔
لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے دورے کے موقع پر بلال اظہر کیانی نے صدر لاہور چیمبر فہیم الرحمان سہگل سے ملاقات کی۔ ملاقات میں کاروباری برادری کو درپیش مسائل، ٹیکس وصولی، صنعتی سرگرمیوں، برآمدات اور معاشی پالیسیوں پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
فہیم الرحمان سہگل نے کہا کہ ٹیکس وصولی کے اہداف زمینی حقائق اور کاروباری سرگرمیوں کو مدنظر رکھتے ہوئے مقرر کیے جانے چاہئیں۔ انہوں نے کاروبار کی بڑھتی لاگت اور بجلی کے بلند نرخوں کو صنعت کیلئے بڑے چیلنجز قرار دیا۔
انہوں نے کہا کہ بڑھتا ہوا نفاذی نظام بھی کاروباری ماحول کو متاثر کر رہا ہے، جبکہ ہاؤسنگ سوسائٹیز کے پھیلاؤ سے زرعی زمین متاثر ہورہی ہے۔
فہیم الرحمان سہگل نے کہا کہ صنعت اور کاروبار کو ریلیف دیے بغیر معاشی سرگرمیوں میں مطلوبہ تیزی نہیں لائی جاسکتی، اس لیے حکومت کو کاروباری برادری کے مسائل ترجیحی بنیادوں پر حل کرنے چاہئیں۔
بلال اظہر کیانی نے بتایا کہ برآمد کنندگان پر سپر ٹیکس ختم کردیا گیا ہے، جبکہ 50 کروڑ روپے سے زائد آمدن پر سپر ٹیکس کی شرح 10 فیصد سے کم کرکے 8 فیصد کردی گئی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ ایکسپورٹ ڈویلپمنٹ سرچارج بھی ختم کردیا گیا جبکہ ایکسپورٹ ڈویلپمنٹ فنڈ کی سربراہی نجی شعبے کو دی گئی ہے۔
وزیر مملکت نے کہا کہ وزیراعظم ہر ہفتے ایف بی آر اجلاس کی صدارت کر رہے ہیں تاکہ ٹیکس نظام میں بہتری لائی جاسکے۔ دکانداروں کیلئے بھی نئی ٹیکس اسکیم متعارف کرائی گئی ہے جبکہ تنخواہ دار طبقے کیلئے بھی ٹیکس میں کمی کی گئی ہے۔