تازہ ترین

گلگت بلتستان میں شدید بارش،شاہراہِ قراقرم سمیت سڑکیں متاثر

0

گلگت: گلگت بلتستان کے ضلع غذر میں شدید بارش کے بعد بادل پھٹنے سے آنے والے سیلابی ریلوں نے مختلف علاقوں میں تباہی مچا دی، جس کے نتیجے میں مکانات، زرعی زمینوں، فصلوں، باغات اور بجلی کے نظام کو نقصان پہنچا جبکہ شاہراہِ قراقرم سمیت متعدد سڑکیں بھی متاثر ہوئیں۔

ہفتے کی علی الصبح ہونے والی موسلا دھار بارش کے بعد اچانک آنے والے سیلابی ریلوں نے غذر کے مختلف علاقوں کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ نوبہار گاؤں میں سیلابی پانی گھروں، زرعی اراضی، فصلوں اور پھل دار درختوں میں داخل ہوگیا، جبکہ گش گش جماعت خانے کو بھی نقصان پہنچنے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔

سیلاب کے باعث امیٹ سے برجنگل جانے والی سڑک بند ہوگئی جبکہ بجلی کی ترسیلی لائنوں کو نقصان پہنچنے سے مقامی آبادی کو مشکلات کا سامنا ہے۔ متاثرہ افراد نے انتظامیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ سڑک کو ہنگامی بنیادوں پر بحال کیا جائے اور متاثرہ خاندانوں کو فوری امداد فراہم کی جائے۔

گلگت بلتستان پولیس کے مطابق تودے گرنے کے باعث سوست سے خنجراب ٹاپ تک شاہراہِ قراقرم کا ایک حصہ بند ہوا، جس کی بحالی کے لیے متعلقہ ادارے کارروائی کر رہے ہیں۔ دوسری جانب ہنزہ میں مرتضیٰ آباد اور حسن آباد کے درمیان شاہراہِ قراقرم کے متاثرہ حصے کو ٹریفک کے لیے بحال کیے جانے کی اطلاع بھی سامنے آئی ہے۔

حکام نے خراب موسمی حالات کے پیش نظر شہریوں اور سیاحوں کو غیر ضروری سفر سے گریز کرنے اور سفر شروع کرنے سے قبل سڑکوں کی تازہ صورتحال معلوم کرنے کی ہدایت کی ہے۔ گلگت بلتستان میں حالیہ بارشوں کے دوران اچانک سیلاب اور تودے گرنے کے خطرات کے حوالے سے سرکاری سطح پر بھی شہریوں کو خبردار کیا گیا ہے۔

مسلسل بارش کے باعث خطے کے مختلف علاقوں میں درجہ حرارت میں بھی کمی واقع ہوئی ہے۔ دیامر کی ضلعی انتظامیہ کے مطابق بابوسر ٹاپ پر رواں موسم کی پہلی برف باری بھی ہوئی، تاہم بابوسر روڈ پر ٹریفک کا سلسلہ جاری رہا۔

گلگت بلتستان ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے مطابق رواں سال جون سے اگست کے دوران خطے میں بادل پھٹنے اور گلیشیئرز پگھلنے کے باعث متعدد سیلابی واقعات پیش آئے، جن سے گھروں، زرعی زمینوں، باغات، سڑکوں، آبپاشی کے نظام اور بجلی کے بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچا۔

ماہرین کے مطابق موسمیاتی تبدیلی کے باعث گلگت بلتستان جیسے پہاڑی علاقوں میں شدید بارش، اچانک سیلاب، گلیشیائی جھیلوں کے پھٹنے اور تودے گرنے جیسے خطرات میں اضافہ ہو رہا ہے۔ سرکاری اداروں نے بھی حالیہ دنوں میں گلگت بلتستان کے حساس علاقوں میں شدید بارش اور اچانک سیلاب کے خدشات سے خبردار کیا ہے۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.