پیوٹن سے وٹکوف اور کشنر کی ملاقات، یوکرین جنگ ختم کرنے پر بات چیت
ماسکو: یوکرین جنگ کے خاتمے کے لیے سفارتی کوششیں ایک بار پھر تیز ہوگئی ہیں، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف اور ان کے داماد جیرڈ کشنر نے ماسکو میں روسی صدر ولادیمیر پیوٹن سے ملاقات کرکے جنگ کے خاتمے اور ممکنہ امن معاہدے پر بات چیت کی ہے۔ امریکی وفد کے بعد کیف جانے اور یوکرینی صدر ولودیمیر زیلنسکی سے ملاقات کا بھی پروگرام ہے۔
روسی صدارتی محل کریملن کی جانب سے جاری مناظر میں اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر کو پیوٹن کے ساتھ مذاکرات کرتے دیکھا گیا۔ ملاقات کے آغاز پر روسی صدر نے یوکرین کی موجودہ صورتحال کو مشکل قرار دیا اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا مذاکرات کی تجویز پر شکریہ ادا کرتے ہوئے ان کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔
امریکی وفد کی قیادت کرنے والے اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر کا دورہ ایسے وقت میں ہورہا ہے جب امریکا روس اور یوکرین کے درمیان جنگ بندی اور کسی ممکنہ امن معاہدے کے لیے سفارتی رابطے دوبارہ فعال کرنے کی کوشش کررہا ہے۔ یہ دونوں امریکی نمائندے پہلے ماسکو پہنچے جہاں انہوں نے روسی قیادت سے بات چیت کی، جبکہ اس کے بعد ان کی کیف روانگی متوقع ہے۔
امریکی وفد کے کیف دورے کے پیش نظر روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے دارالحکومت کیف پر حملے 3 روز کے لیے روکنے کا حکم دیا ہے۔ کریملن کے مطابق یہ وقفہ مقامی وقت کے مطابق ہفتے اور اتوار کی درمیانی شب سے شروع ہوگا اور امریکی نمائندوں کے کیف میں ہونے والے رابطوں کے پیش نظر دیا گیا ہے۔
دوسری جانب یوکرینی صدر ولودیمیر زیلنسکی نے بھی امریکی نمائندوں سے رابطے کے بعد کہا ہے کہ یوکرین مذاکراتی کوششوں کے دوران روسی دارالحکومت ماسکو پر حملوں سے گریز کرنے کے لیے تیار ہے۔ زیلنسکی نے امریکی وفد کے کیف پہنچنے کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ یوکرین بامعنی مذاکرات کے لیے تیار ہے اور امید ہے کہ روس بھی اسی جذبے کا مظاہرہ کرے گا۔
تاہم سفارتی سرگرمیوں کے باوجود جنگ مکمل طور پر نہیں رکی۔ یوکرین کی جانب سے روسی حملوں میں کیف اور اس کے قریب ہوائی اڈوں کو نشانہ بنانے کا دعویٰ بھی سامنے آیا ہے۔ روس نے ان حملوں کے حوالے سے یوکرینی دعووں کی مکمل تصدیق یا تردید نہیں کی، جبکہ دونوں جانب سے دارالحکومتوں کے علاوہ دیگر علاقوں میں فوجی کارروائیاں جاری رہنے کی اطلاعات ہیں۔
یوکرین کی جانب سے روس کے ساتھ وسیع تر جنگ بندی کی تجویز بھی سامنے آئی ہے، جس میں یوکرینی سرزمین پر فضائی حملوں کے ساتھ ساتھ محاذ پر جاری لڑائی روکنے کی بات کی گئی ہے۔ یوکرینی حکام کے مطابق اس تجویز پر ماسکو کی جانب سے ابھی واضح جواب موصول نہیں ہوا۔
امریکی سفارتی وفد کی ماسکو اور کیف میں ملاقاتوں کو جنگ کے خاتمے کے لیے ایک اہم مگر نازک کوشش قرار دیا جارہا ہے۔ روس اور یوکرین کے درمیان جاری جنگ فروری 2022 سے جاری ہے اور اس دوران امریکا اور یورپی ممالک نے یوکرین کی مختلف شعبوں میں مدد کی جبکہ روس پر متعدد پابندیاں عائد کی گئیں۔
تازہ مذاکرات سے یہ امید پیدا ہوئی ہے کہ واشنگٹن روس اور یوکرین کے درمیان کسی قابلِ قبول جنگ بندی یا امن معاہدے کی بنیاد رکھنے میں کامیاب ہوسکتا ہے، تاہم دونوں ممالک کے درمیان بنیادی اختلافات برقرار ہیں اور مذاکرات کی کامیابی کا انحصار آئندہ رابطوں اور فریقین کے مؤقف میں ممکنہ لچک پر ہوگا۔