تازہ ترین

افغانستان سے رابطے بحال کرنے سے پہلے دہشتگردی کا خاتمہ ضروری ہے: پاکستان

0

اسلام آباد: پاکستان نے افغان شہریوں کے ویزوں کی بحالی سے متعلق سامنے آنے والے دعووں کو مسترد کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ حکومت نے انسانی بنیادوں پر ویزوں کا دوبارہ اجرا شروع کرنے کا کوئی فیصلہ نہیں کیا اور مستقبل قریب میں بھی ایسی کوئی پالیسی اختیار کرنے کا ارادہ نہیں رکھتی۔

پاکستان کی جانب سے جاری کیے گئے ردعمل میں کہا گیا ہے کہ پاکستان نے کئی دہائیوں تک انسانی بنیادوں پر افغان شہریوں کو پناہ اور سہولتیں فراہم کیں، تاہم اس کے بدلے ملک کو مسلسل دہشتگردی اور سرحد پار حملوں کا سامنا کرنا پڑا۔ پاکستان کا مؤقف ہے کہ موجودہ صورتحال میں قومی سلامتی کو نظرانداز کرتے ہوئے ویزا سہولتیں بحال کرنا ممکن نہیں۔

ردعمل میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کی سیاسی اور عسکری قیادت دہشتگردی کے مسئلے پر یکساں مؤقف رکھتی ہے اور افغانستان کو اپنی سرزمین سے سرگرم دہشتگرد گروہوں کے خلاف مؤثر اور فیصلہ کن کارروائی کرنا ہوگی۔ پاکستان نے واضح کیا ہے کہ جب تک افغان سرزمین سے پاکستان کے خلاف دہشتگردی کا خطرہ ختم نہیں ہوتا، افغانستان کے ساتھ معمول کے تمام رابطے بحال نہیں کیے جاسکتے۔

پاکستان کے مطابق حکومت کی اولین ترجیح اپنے شہریوں کی جان و مال کا تحفظ اور ملکی سلامتی ہے۔ انسانی ہمدردی کے تقاضوں کو بھی اہمیت حاصل ہے، تاہم انہیں قومی سلامتی کی قیمت پر پورا نہیں کیا جاسکتا۔

پاکستان نے کہا ہے کہ افغانستان سے مسلسل سرحد پار دہشتگردی کے واقعات کے باعث اس وقت افغان شہریوں کے لیے ویزا سہولتیں دوبارہ شروع کرنا سکیورٹی خطرات کو دعوت دینے کے مترادف ہوگا۔ اسی لیے حکومت نے ویزوں کی بحالی کے حوالے سے کوئی فیصلہ نہیں کیا۔

پاکستانی مؤقف کے مطابق افغانستان کے عوام کو اپنی حکومت سے مطالبہ کرنا چاہیے کہ وہ افغان سرزمین پر موجود اور وہاں سے پاکستان کے خلاف کارروائیاں کرنے والی دہشتگرد تنظیموں کے خلاف ٹھوس کارروائی کرے۔ پاکستان کا کہنا ہے کہ دہشتگردی کے خاتمے کے لیے افغان حکومت کی عملی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنی سرزمین کسی دوسرے ملک کے خلاف استعمال نہ ہونے دے۔

ردعمل میں سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ ایک پاکستانی شہری کی جان اور سلامتی پاکستان کے لیے بنیادی اہمیت رکھتی ہے اور ملکی شہریوں کے تحفظ پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جاسکتا۔

پاکستان نے مزید کہا ہے کہ موجودہ صورتحال افغان طالبان حکومت کی ان پالیسیوں کا نتیجہ ہے جن کے باعث دہشتگرد گروہوں کو افغان سرزمین پر سرگرمیوں کا موقع مل رہا ہے۔ پاکستان کا مؤقف ہے کہ افغان حکومت کو اپنے عوام کی فلاح و بہبود اور خطے کے امن کو ترجیح دیتے ہوئے دہشتگرد عناصر کے خلاف فیصلہ کن اقدامات کرنا ہوں گے۔

پاکستان نے واضح کیا ہے کہ افغانستان کے ساتھ تعلقات میں بہتری اور معمول کے رابطوں کی بحالی کا انحصار دہشتگردی کے مسئلے پر مؤثر پیش رفت اور پاکستانی شہریوں کے تحفظ کو یقینی بنانے پر ہوگا۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.