مطالبات حل نہ ہوئے تو پہیہ جام کی طرف جائیں گے: حافظ نعیم
اسلام آباد: امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمٰن نے حکومت کو خبردار کیا ہے کہ مطالبات پر خاطر خواہ پیش رفت نہ ہوئی تو احتجاج کا دائرہ مزید وسیع کیا جائے گا اور پہیہ جام کی طرف بھی جایا جا سکتا ہے۔
اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمٰن نے کہا کہ حکومت اور جماعت اسلامی کے درمیان مذاکرات کا باقاعدہ آغاز پیر سے ہوگا، تاہم مذاکرات کے ساتھ احتجاجی عمل بھی جاری رہے گا۔
انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی کو امید ہے کہ مذاکرات کے ذریعے عوام کو ریلیف دلانے میں کامیابی حاصل ہوگی، تاہم اگر مطالبات پر پیش رفت نہ ہوئی تو احتجاج میں مزید شدت لائی جا سکتی ہے۔
پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں پر بات کرتے ہوئے حافظ نعیم نے کہا کہ پیٹرولیم لیوی کا عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں سے براہ راست تعلق نہیں۔ ان کے مطابق عالمی سطح پر تیل مہنگا ہونے کی صورت میں حکومت کو لیوی ختم کرنے کے آپشن پر غور کرنا چاہیے۔ انہوں نے ریفائنریوں اور آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کے منافع اور مارجن پر بھی سوالات اٹھائے۔
حافظ نعیم الرحمٰن نے حکومتی مالی پالیسیوں پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں قرضوں کی سود کی ادائیگی پر بھاری رقم خرچ ہو رہی ہے، جبکہ مقامی بینکوں سے لیے گئے قرضوں کا بوجھ بھی موجود ہے۔ ان کا دعویٰ تھا کہ موجودہ نظام میں عوام کے بجائے بعض مالیاتی اداروں کو فائدہ پہنچ رہا ہے۔
انہوں نے ایف بی آر کی کارکردگی پر بھی تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ ادارے کی نااہلی سے قومی خزانے کو بڑے پیمانے پر نقصان پہنچ رہا ہے۔
سیاسی معاملات پر حافظ نعیم نے پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی ہر ایسے احتجاج کی حمایت کرتی ہے جو آئینی اور جمہوری دائرے میں رہ کر کیا جائے۔
امیر جماعت اسلامی کے مطابق ان کی جماعت کی احتجاجی کال پُرامن ہوتی ہے اور عوام نے اس پر بھرپور ردعمل دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی کسی کو زبردستی احتجاج کا حصہ نہیں بناتی بلکہ پُرامن طریقے سے عوام کو متحرک کرتی ہے۔
بجلی کی قیمتوں کے حوالے سے حافظ نعیم نے کہا کہ آئی پی پیز کے ساتھ دوبارہ مذاکرات کے ذریعے بجلی کی قیمتوں میں مزید کمی کی گنجائش موجود ہے۔ ان کے بقول بجلی، تیل اور گیس سمیت مختلف شعبوں میں ایک بااثر مافیا موجود ہے جو عوام پر بوجھ بڑھا رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ عوام کو پیٹرولیم لیوی کے معاملے پر کافی آگاہی حاصل ہو چکی ہے اور جماعت اسلامی اپنے مطالبات کے حق میں ملک کے 5 کروڑ عوام سے دستخط لینے کا منصوبہ رکھتی ہے۔
حافظ نعیم الرحمٰن نے مزید کہا کہ اگر حکومت پالیسی ریٹ میں 3 فیصد کمی کر دے تو پیٹرولیم لیوی ختم کرنے کی ضرورت بھی کم ہو سکتی ہے۔ ان کے مطابق حکومت جتنی تاخیر کرے گی، احتجاجی سرگرمیوں میں اتنا ہی اضافہ ہوگا اور مطالبات تسلیم نہ کیے گئے تو عوامی دباؤ مزید بڑھے گا۔