تازہ ترین

اسلام آباد بلدیاتی آرڈیننس بل 2026 منظور، پیپلز پارٹی کی مخالفت

0

اسلام آباد: قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ نے اسلام آباد مقامی حکومت آرڈیننس بل 2026 کی منظوری دے دی، تاہم پاکستان پیپلز پارٹی کے ارکان نے بل کی مخالفت کرتے ہوئے اپنے تحفظات ریکارڈ کرانے کا اعلان کردیا۔

قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں بل کی منظوری کے لیے رائے شماری ہوئی جس میں 12 ارکان نے حصہ لیا۔ ان میں سے 8 ارکان نے بل کے حق میں ووٹ دیا جبکہ پیپلز پارٹی کے 4 ارکان نے مخالفت میں ووٹ دیا، جس کے بعد بل منظور کرلیا گیا۔

پیپلز پارٹی کے رکن قومی اسمبلی عبدالقادر پٹیل نے کہا کہ ان کی جماعت بل پر اپنے اعتراضات باضابطہ طور پر جمع کرائے گی اور اختلافی نوٹ بھی پیش کیا جائے گا۔ انہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ مجوزہ نظام کے تحت اسلام آباد اور پنجاب میں مقامی حکومتوں کے انتخابات نہیں ہوں گے۔

وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے عبدالقادر پٹیل کے مؤقف کو عمومی دعوے قرار دیتے ہوئے کہا کہ تنقید حقائق کی بنیاد پر ہونی چاہیے۔ انہوں نے حالیہ شدید بارشوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اسلام آباد میں بارش کے باوجود ان کے مطابق کوئی جانی نقصان رپورٹ نہیں ہوا۔

مجوزہ قانون کے تحت میٹروپولیٹن کارپوریشن اسلام آباد کو ختم کرکے اس کی جگہ تین ٹاؤن کارپوریشنز قائم کی جائیں گی۔ ہر ٹاؤن کارپوریشن کا اپنا میئر، ڈپٹی میئرز اور منتخب کونسل ہوگی، جس کے باعث وفاقی دارالحکومت کے مقامی حکومتی ڈھانچے میں نمایاں تبدیلی آئے گی۔

بل میں حکومت کی جانب سے مقرر کیے گئے منتظم کے اختیارات میں بھی اضافہ تجویز کیا گیا ہے۔ مجوزہ قانون کے مطابق منتظم کو عہدے پر برقرار رکھنے کے لیے کوئی مقررہ مدت مقرر نہیں ہوگی، جس پر سیاسی حلقوں کی جانب سے مزید بحث متوقع ہے۔

اسلام آباد کے مقامی حکومت کے نظام میں یہ تازہ تبدیلی جنوری 2026 میں صدر آصف علی زرداری کی جانب سے منظور کیے گئے ایک آرڈیننس کے بعد سامنے آئی ہے۔ اس آرڈیننس کے ذریعے اسلام آباد مقامی حکومت ایکٹ 2015 میں ترامیم کی گئی تھیں۔

اس سے قبل ہونے والی قانونی تبدیلی کے نتیجے میں اسلام آباد میں مقامی حکومت کے انتخابات ملتوی کردیئے گئے تھے، جو ابتدائی طور پر 15 فروری 2026 کو منعقد ہونا تھے۔ انتخابات کے لیے اسلام آباد کی تمام 125 یونین کونسلز سے امیدوار پہلے ہی کاغذاتِ نامزدگی جمع کراچکے تھے، تاہم بعد میں انتخابی عمل مؤخر کردیا گیا۔

حالیہ بل کی منظوری کے بعد اسلام آباد کے مقامی حکومتی نظام، ٹاؤن کارپوریشنز کے قیام، منتظم کے اختیارات اور آئندہ بلدیاتی انتخابات کے حوالے سے سیاسی جماعتوں کے درمیان بحث مزید شدت اختیار کرنے کا امکان ہے۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.