تازہ ترین

عالمی سرمایہ کاروں کا پاکستان پر اعتماد بحال ہوگیا، وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب

0

اسلام آباد: وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ عالمی سرمایہ کاروں کا پاکستان کی معیشت پر اعتماد دوبارہ بحال ہوگیا ہے، جبکہ سرمایہ کاروں کی بڑھتی ہوئی دلچسپی نہ صرف ملک کی موجودہ معاشی صورتحال بلکہ مستقبل کے امکانات پر بھی اعتماد کی عکاسی کرتی ہے۔

اسلام آباد میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے محمد اورنگزیب نے کہا کہ حکومت معاشی استحکام کے لیے ٹیکس نظام میں جامع اصلاحات پر عملدرآمد کررہی ہے۔ ٹیکس دائرہ کار کو وسیع کرنے کے لیے بھی اقدامات جاری ہیں، جن کے نتیجے میں ٹیکس وصولیوں میں نمایاں بہتری آئی ہے۔

وفاقی وزیر خزانہ کے مطابق حکومت معیشت کے غیر رسمی شعبے میں ہونے والی سرگرمیوں کو محدود کرنے کے لیے بھی عملی اقدامات کررہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ٹیکس اصلاحات اور محصولات کے نظام میں بہتری حکومت کی وسیع تر معاشی حکمت عملی کا اہم حصہ ہیں۔

محمد اورنگزیب نے کہا کہ پاکستان پر عالمی سرمایہ کاروں کا بحال ہونے والا اعتماد صرف موجودہ معاشی حالات تک محدود نہیں بلکہ سرمایہ کار ملک کے مستقبل کے امکانات کو بھی مثبت انداز میں دیکھ رہے ہیں۔ ان کے مطابق یہ اعتماد پاکستان کی مجموعی مالی حکمت عملی اور معاشی اصلاحات سے بھی جڑا ہوا ہے۔

وزیر خزانہ نے بیرونی مالی ضروریات پوری کرنے کے لیے یورو بانڈ کو حکومت کی درمیانی مدت کی مالی حکمت عملی کا حصہ قرار دیا۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستان نے حال ہی میں ساڑھے پانچ سال کی مدت کے یورو بانڈ کے ذریعے ایک ارب 75 کروڑ ڈالر حاصل کیے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ حکومت بیرونی قرضوں کے لیے زیادہ طویل مدت حاصل کرنے کی کوشش کررہی ہے تاکہ بار بار قرض کی ادائیگی یا دوبارہ مالی انتظام کے باعث پیدا ہونے والے خطرات کو کم کیا جاسکے۔ ان کے مطابق طویل مدت کی مالی سہولتیں پاکستان کے بیرونی مالی دباؤ کو منظم کرنے میں مددگار ثابت ہوسکتی ہیں۔

محمد اورنگزیب نے کہا کہ پاکستان اپنے بیرونی مالی ذرائع کو متنوع بنانے پر بھی کام کررہا ہے۔ اس حکمت عملی میں سکوک، ڈالر میں طے ہونے والے بانڈز اور پانڈا بانڈز سمیت مختلف ذرائع شامل ہیں، تاکہ عالمی سطح پر سرمایہ حاصل کرنے کے لیے پاکستان کے پاس ایک سے زیادہ راستے موجود ہوں۔

انہوں نے کہا کہ مختلف عالمی مالی ذرائع سے استفادہ کرنے کا مقصد بیرونی مالی ضروریات کو بہتر انداز میں پورا کرنا اور دوبارہ قرض لینے سے متعلق خطرات کو کم کرنا ہے۔ حکومت مالیاتی اصلاحات کے ساتھ ساتھ بیرونی سرمایہ کاری اور مالی وسائل کے لیے بھی نئے راستے پیدا کررہی ہے۔

وفاقی وزیر خزانہ کے مطابق ٹیکس وصولیوں میں بہتری کے لیے متعارف کرائی گئی اصلاحات کے نتائج سامنے آنا شروع ہوگئے ہیں، جبکہ غیر رسمی معیشت کو باقاعدہ معاشی نظام میں لانے کے لیے بھی اقدامات جاری ہیں۔

محمد اورنگزیب نے کہا کہ حکومت کی مالی حکمت عملی کا بنیادی مقصد طویل مدت کے لیے مالی وسائل حاصل کرنا، دوبارہ قرض لینے کے خطرات کم کرنا اور بیرونی مالی ذرائع میں تنوع پیدا کرنا ہے۔ ان کے مطابق پاکستان کی معیشت کے بارے میں عالمی سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال ہونا ان کوششوں اور ملک کے مستقبل کے امکانات کے حوالے سے ایک مثبت اشارہ ہے۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.