ابراہم لنکن کی طویل سمندری تعیناتی ختم، تھائی لینڈ پہنچ گیا
تھائی لینڈ: امریکی جوہری توانائی سے چلنے والا طیارہ بردار بحری جہاز ’’یو ایس ایس ابراہم لنکن‘‘ طویل عرصے تک سمندر میں رہنے کے بعد تھائی لینڈ پہنچ گیا، جہاں جہاز پر موجود تقریباً 5 ہزار اہلکاروں کو کئی ماہ بعد ساحل پر اترنے اور آرام کرنے کا موقع ملا۔
غیر ملکی ذرائع ابلاغ کے مطابق ابراہم لنکن تھائی لینڈ کے لا ایم چابانگ بندرگاہ پر لنگر انداز ہوا ہے، جو ساحلی شہر پٹایا کے قریب واقع ہے۔ امریکی بحریہ کے مطابق یہ جہاز اور اس کے ساتھ موجود بحری جنگی گروپ طے شدہ بندرگاہی قیام کے لیے تھائی لینڈ پہنچا ہے۔
رپورٹس کے مطابق جہاز پر موجود اہلکاروں نے مسلسل طویل عرصے تک سمندر میں خدمات انجام دیں اور انہیں کئی ماہ تک معمول کے مطابق ساحل پر قیام کا موقع نہیں مل سکا۔ ذرائع کے مطابق اس طویل تعیناتی کے دوران جہاز مشرق وسطیٰ میں امریکی فوجی کارروائیوں کی معاونت میں بھی مصروف رہا۔
ابراہم لنکن گزشتہ نومبر میں امریکی ریاست کیلیفورنیا کے شہر سان ڈیاگو سے اپنے طویل بحری مشن پر روانہ ہوا تھا۔ ابتدائی طور پر اس کی تعیناتی بحرالکاہل کے خطے کے لیے تھی، تاہم ایران کے خلاف امریکی اور اسرائیلی فوجی کارروائیوں کے بعد جہاز کو مشرق وسطیٰ کی جانب منتقل کردیا گیا، جس کے باعث اس کی سمندری تعیناتی غیرمعمولی طور پر طویل ہوگئی۔
تازہ رپورٹس میں جہاز کی مجموعی تعیناتی 286 دن جبکہ مسلسل بغیر بندرگاہ رکے سمندر میں رہنے کا عرصہ 250 سے زیادہ دن بتایا گیا ہے۔ اسی طویل تعیناتی کے باعث جہاز کے عملے کو تھکن اور دیگر مشکلات کا سامنا بھی رہا۔
تھائی لینڈ پہنچنے کے بعد تقریباً 5 ہزار امریکی بحری اہلکاروں اور میرینز کو پٹایا میں چند روز آرام اور تفریح کے لیے ساحل پر جانے کا موقع دیا جا رہا ہے۔ مقامی حکام نے اس دوران سکیورٹی کے خصوصی انتظامات بھی کیے ہیں۔
امریکی بحریہ کے مطابق تھائی لینڈ میں قیام طویل اور مشکل تعیناتی کے بعد اہلکاروں کو آرام اور تازہ دم ہونے کا موقع فراہم کرے گا۔ ابراہم لنکن کے ساتھ موجود دیگر امریکی جنگی بحری جہاز بھی تھائی لینڈ کی مختلف بندرگاہوں پر پہنچے ہیں۔