ارشد ندیم کی نظریں ایک اور بڑے عالمی اعزاز پر، تیاریوں میں تیزی
پاکستان کے اولمپک طلائی تمغہ جیتنے والے نیزہ پھینکنے کے ماہر ارشد ندیم کے لیے آئندہ عالمی مقابلہ ایک بڑے اعزاز کے حصول کا اہم موقع بن گیا ہے۔ بھارت کے مضبوط حریف نیرج چوپڑا کے انجری کے باعث مقابلے سے باہر ہونے کے بعد ارشد ندیم کے لیے طلائی تمغہ جیتنے کی راہ نسبتاً آسان ہوگئی ہے۔
ارشد ندیم 11 سے 13 ستمبر تک ہنگری کے دارالحکومت بڈاپسٹ میں ہونے والی پہلی عالمی ایتھلیٹکس الٹی میٹ چیمپئن شپ میں شرکت کریں گے۔ نیزہ پھینکنے کا مردوں کا فائنل 13 ستمبر کو شیڈول ہے۔ عالمی ایتھلیٹکس کی جانب سے جاری کردہ فہرست کے مطابق ارشد ندیم نیزہ پھینکنے کے مقابلے کے لیے اہل کھلاڑیوں میں شامل ہیں۔
بھارتی نیزہ پھینکنے کے اسٹار نیرج چوپڑا ٹخنے کے رباط میں چوٹ کے باعث 2026 کے باقی تمام مقابلوں سے دستبردار ہوچکے ہیں۔ انہوں نے گزشتہ ماہ لوزان ڈائمنڈ لیگ میں 88.05 میٹر کی سیزن کی بہترین تھرو کے ساتھ دوسری پوزیشن حاصل کی تھی، تاہم اس کے بعد تربیت کے دوران انہیں ٹخنے میں چوٹ لگی، جس کے باعث وہ آئندہ اہم مقابلوں میں حصہ نہیں لے سکیں گے۔
نیرج چوپڑا کی عدم موجودگی ارشد ندیم کے لیے خاص طور پر اہم ہے کیونکہ دونوں کھلاڑی گزشتہ چند برسوں میں نیزہ پھینکنے کے مقابلوں میں ایک دوسرے کے بڑے حریف رہے ہیں۔ اب بڈاپسٹ میں ارشد ندیم کو ایک ایسے میدان کا سامنا ہوگا جہاں ان کے بڑے حریفوں میں سے ایک موجود نہیں ہوگا۔
ارشد ندیم ان دنوں جنوبی افریقا کے شہر پوچیفسٹروم میں تربیت حاصل کر رہے ہیں، جہاں وہ معروف جنوبی افریقی کوچ ٹیریسیئس لیبین برگ کی نگرانی میں اپنی تیاریوں کو حتمی شکل دے رہے ہیں۔ ارشد پہلے بھی اس کوچ کے ساتھ تربیت حاصل کرچکے ہیں اور ان کی نگرانی میں انہوں نے بڑی کامیابیاں حاصل کی ہیں۔
ارشد ندیم نے 2022 کے دولتِ مشترکہ کھیلوں میں طلائی تمغہ جیتا تھا، جبکہ پیرس اولمپکس 2024 میں انہوں نے 92.97 میٹر کی ریکارڈ تھرو کے ساتھ پاکستان کے لیے تاریخی طلائی تمغہ حاصل کیا۔ عالمی ایتھلیٹکس کے ریکارڈ کے مطابق وہ اولمپک چیمپئن ہونے کے ساتھ عالمی چیمپئن شپ کے چاندی کے تمغہ جیتنے والے بھی ہیں۔
تاہم رواں سال ارشد ندیم کی کارکردگی توقعات کے مطابق نہیں رہی۔ دولتِ مشترکہ کھیلوں میں وہ نیزہ پھینکنے کے فائنل میں نویں نمبر پر رہے اور 77.41 میٹر کی بہترین تھرو کر سکے۔ اس کے بعد انہوں نے لوزان ڈائمنڈ لیگ میں شرکت کے بجائے جنوبی افریقا میں تربیت کو ترجیح دی تاکہ آئندہ بڑے مقابلوں کے لیے اپنی فارم اور فٹنس بہتر بنا سکیں۔
بڈاپسٹ کا یہ مقابلہ روایتی عالمی ایتھلیٹکس چیمپئن شپ سے مختلف ہے۔ پہلی عالمی ایتھلیٹکس الٹی میٹ چیمپئن شپ میں دنیا کے بہترین کھلاڑیوں کو ایک ہی مقام پر جمع کیا جا رہا ہے، جبکہ مجموعی طور پر 28 مقابلے تین روز میں ہوں گے۔ مردوں کے نیزہ پھینکنے کا فائنل 13 ستمبر کو ہوگا۔
ارشد ندیم اس مقابلے کے بعد جاپان کے شہر ایچی ناگویا میں ہونے والے ایشین گیمز میں بھی پاکستان کی نمائندگی کریں گے۔ ایشین گیمز 19 ستمبر سے 4 اکتوبر تک جاری رہیں گے، جہاں ارشد ندیم سے ایک مرتبہ پھر شاندار کارکردگی کی توقع کی جارہی ہے۔
پاکستانی شائقین کی نظریں اب بڈاپسٹ میں ارشد ندیم کی کارکردگی پر مرکوز ہیں، جہاں نیرج چوپڑا کی غیر موجودگی میں پاکستانی اولمپک چیمپئن کے پاس ایک اور بڑے بین الاقوامی اعزاز اپنے نام کرنے کا بہترین موقع موجود ہے۔