اسلام آباد: پاکستان ہاکی فیڈریشن نے قومی کھیل کو نچلی سطح سے دوبارہ مضبوط بنانے کے لیے اہم اقدامات کا اعلان کرتے ہوئے قومی ہاکی چیمپئن شپ کے لیے 2 کروڑ 80 لاکھ روپے کی انعامی رقم مختص کردی ہے۔ انعامی رقم بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے کھلاڑیوں اور کامیاب ٹیموں میں تقسیم کی جائے گی۔
صدر پاکستان ہاکی فیڈریشن محی الدین احمد وانی نے بتایا کہ قومی سینئر، جونیئر اور انڈر 15 چیمپئن شپ جنوری 2027 میں منعقد کی جائیں گی، جن میں لڑکوں اور لڑکیوں دونوں کی ٹیموں کو شرکت کا موقع دیا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ ان مقابلوں کا مقصد ملک بھر سے نئے اور باصلاحیت کھلاڑیوں کو سامنے لانا، انہیں زیادہ سے زیادہ مسابقتی مواقع فراہم کرنا اور قومی ہاکی کے لیے مضبوط بنیاد تیار کرنا ہے۔
نئے مقابلہ جاتی نظام کے تحت ہر صوبے سے زیادہ سے زیادہ چار ٹیمیں قومی چیمپئن شپ میں حصہ لے سکیں گی، جبکہ آزاد جموں و کشمیر اور گلگت بلتستان سے دو، دو ٹیموں کو شرکت کا موقع دیا جائے گا۔ اس کے علاوہ محکمہ جاتی ٹیمیں بھی قومی مقابلوں میں شریک ہوسکیں گی۔
پاکستان ہاکی فیڈریشن کے صدر کے مطابق جن علاقوں میں لڑکیوں کی ٹیمیں موجود ہوں گی، وہاں انہیں بھی بھرپور مقابلے میں شامل کیا جائے گا، تاکہ خواتین کی ہاکی کو بھی فروغ دیا جاسکے اور ملک میں خواتین کھلاڑیوں کے لیے زیادہ مواقع پیدا ہوں۔
محی الدین احمد وانی نے کہا کہ قومی ہاکی کو صرف اعلیٰ سطح پر بہتر بنانے کے بجائے نچلی سطح سے مضبوط کرنے کی ضرورت ہے۔ اسی مقصد کے تحت انڈر 15، جونیئر اور سینئر سطح کے درمیان کھلاڑیوں کی ترقی کے لیے ایک واضح راستہ فراہم کیا جارہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ زیادہ ٹیموں کی شرکت سے مقابلوں کی تعداد میں اضافہ ہوگا، کھلاڑیوں کو اپنی صلاحیتیں ثابت کرنے کے زیادہ مواقع ملیں گے اور سخت مقابلے کے ذریعے قومی سطح کے لیے باصلاحیت کھلاڑیوں کا انتخاب بہتر انداز میں ممکن ہوسکے گا۔
صدر پاکستان ہاکی فیڈریشن کے مطابق 2 کروڑ 80 لاکھ روپے کی انعامی رقم کھلاڑیوں اور ٹیموں کی حوصلہ افزائی میں اہم کردار ادا کرے گی۔ انعامات کا مقصد کھلاڑیوں میں کامیابی کی خواہش بڑھانے کے ساتھ ساتھ قومی مقابلوں میں بہتر کارکردگی کا رجحان پیدا کرنا ہے۔
انہوں نے کہا کہ زیادہ ٹیمیں، زیادہ مقابلے، زیادہ مواقع اور زیادہ انعامات کے ذریعے پاکستان ہاکی کو گراس روٹ سطح سے قومی ٹیم تک دوبارہ مضبوط بنیادوں پر استوار کیا جائے گا۔
پاکستان ہاکی فیڈریشن کی جانب سے اعلان کردہ نئے نظام کے تحت نوجوان کھلاڑیوں کو ابتدائی عمر ہی سے قومی سطح کے مقابلوں میں اپنی صلاحیتیں دکھانے کا موقع ملے گا، جس سے مستقبل میں قومی ٹیم کے لیے باصلاحیت کھلاڑیوں کی دستیابی میں بھی اضافہ متوقع ہے۔