تازہ ترین

اردوان کا شنگھائی تعاون تنظیم کی مکمل رکنیت پر غور کا عندیہ

0

انقرہ: نیٹو کے رکن ترکیہ نے چین اور روس کی قیادت میں قائم شنگھائی تعاون تنظیم کے ساتھ تعلقات کو مزید بلند سطح تک لے جانے کا عندیہ دے دیا ہے، جبکہ صدر رجب طیب اردوان نے تنظیم کی مکمل رکنیت کے امکان پر غور کرنے کا بھی اشارہ دیا ہے۔

صدر رجب طیب اردوان نے بدھ کو کرغزستان سے واپسی کے دوران صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ترکیہ کی شنگھائی تعاون تنظیم کی مکمل رکنیت کی خواہش کا مطلب کسی دوسرے اتحاد یا مغرب سے تعلقات ختم کرنا نہیں ہوگا۔

انہوں نے واضح کیا کہ ترکیہ اپنی خارجہ پالیسی کو وسیع دائرے میں آگے بڑھانا چاہتا ہے اور مشرقی ممالک کے ساتھ بڑھتے ہوئے روابط کو مغربی ممالک اور موجودہ اتحادوں سے علیحدگی کے طور پر نہیں دیکھا جانا چاہیے۔

اردوان نے کہا کہ ترکیہ کا مقصد اپنی عالمی اہمیت اور اثر و رسوخ میں اضافہ کرنا ہے اور اس کے لیے وہ مختلف عالمی اور علاقائی طاقتوں کے ساتھ تعلقات کو بیک وقت آگے بڑھانے کی پالیسی پر عمل پیرا ہے۔

ترک صدر نے یہ بیان شنگھائی تعاون تنظیم کے سربراہ اجلاس میں شرکت کے بعد دیا، جو کرغزستان کے دارالحکومت بشکیک میں منعقد ہوا۔ ترکیہ اس وقت تنظیم کا مکمل رکن نہیں بلکہ شنگھائی تعاون تنظیم کے ساتھ مکالماتی شراکت دار کی حیثیت رکھتا ہے۔

ترکیہ کو 2012 میں شنگھائی تعاون تنظیم کے مکالماتی شراکت دار کا درجہ دیا گیا تھا۔ اس کے بعد انقرہ نے تنظیم کے مختلف معاملات میں تعاون بڑھایا، جبکہ 2017 میں ترکیہ نے تنظیم کے توانائی سے متعلق اعلیٰ سطحی گروپ کی گردشی سربراہی بھی سنبھالی تھی۔

اردوان نے گزشتہ روز بشکیک میں شنگھائی تعاون تنظیم کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے بھی تنظیم کے ساتھ تعاون کو ہر شعبے میں مزید آگے بڑھانے کی خواہش ظاہر کی تھی۔ انہوں نے تنظیم کو ابھرتے ہوئے کثیر قطبی عالمی نظام کا ایک اہم حصہ قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ شنگھائی تعاون تنظیم ان کی ملک کی کثیر جہتی خارجہ پالیسی سے مطابقت رکھتی ہے۔

ترک صدر کے مطابق شنگھائی تعاون تنظیم تقریباً ساڑھے تین ارب افراد اور 35 کھرب ڈالر کی مجموعی معیشت کی نمائندگی کرتی ہے اور گزشتہ 25 برسوں کے دوران عالمی سطح پر اس کی اہمیت میں اضافہ ہوا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ترکیہ تنظیم کے ساتھ توانائی، محفوظ نقل و حمل کے راستوں، علاقائی رابطہ کاری اور دیگر شعبوں میں تعاون بڑھانے کا خواہاں ہے۔

مکمل رکنیت کے حوالے سے اردوان کا تازہ بیان ترکیہ کی طویل عرصے سے جاری اس خواہش کی بھی عکاسی کرتا ہے کہ انقرہ شنگھائی تعاون تنظیم کے ساتھ اپنے تعلقات کو مزید مضبوط کرے۔ اردوان نے 2022 میں بھی کہا تھا کہ ترکیہ کا مقصد تنظیم کی رکنیت حاصل کرنا ہے۔

تاہم ترک صدر نے موجودہ بیان میں خاص طور پر واضح کیا کہ شنگھائی تعاون تنظیم کے ساتھ قریبی تعلقات یا ممکنہ مکمل رکنیت کو مغرب سے دوری کے طور پر نہیں دیکھا جانا چاہیے۔ ترکیہ بدستور نیٹو کا رکن ہے اور مغربی ممالک کے ساتھ اس کے اہم سیاسی اور اقتصادی روابط موجود ہیں۔

شنگھائی تعاون تنظیم میں اس وقت چین، روس، بھارت، ایران، پاکستان، بیلاروس، قازقستان، کرغزستان، تاجکستان اور ازبکستان سمیت 10 مکمل رکن ممالک شامل ہیں، جبکہ ترکیہ مکالماتی شراکت دار ہے۔

ترکیہ کی جانب سے تنظیم کے ساتھ تعلقات مزید مضبوط بنانے کی کوشش ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب شنگھائی تعاون تنظیم عالمی سطح پر سیاسی، اقتصادی اور سلامتی کے معاملات میں اپنا کردار بڑھا رہی ہے۔ تاہم تنظیم ایک باقاعدہ فوجی اتحاد نہیں ہے اور اس کے رکن ممالک کے اپنے الگ الگ سیاسی اور تزویراتی مفادات بھی ہیں۔

اردوان کے تازہ بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ ترکیہ اپنی خارجہ پالیسی میں مغرب اور مشرق دونوں کے ساتھ روابط برقرار رکھتے ہوئے عالمی سطح پر اپنے لیے زیادہ وسیع سفارتی اور تزویراتی کردار حاصل کرنا چاہتا ہے۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.