تازہ ترین

بل دینے والوں کو بجلی، چوری کرنے والوں کے علاقوں میں لوڈشیڈنگ، اویس لغاری

0

اسلام آباد: وفاقی وزیر توانائی اویس لغاری نے کہا ہے کہ حکومت بجلی چوری کے مسئلے سے نمٹنے اور بل ادا کرنے والے صارفین کو غیر ضروری لوڈشیڈنگ سے بچانے کے لیے موجودہ نظام میں بڑی تبدیلی لانے کی تیاری کررہی ہے۔ حکومت نے بجلی چوری سے زیادہ متاثرہ 3 ہزار 400 فیڈرز پر فیڈر کے بجائے ٹرانسفارمر کی سطح پر لوڈشیڈنگ منتقل کرنے کا منصوبہ بنایا ہے، جس پر تقریباً 60 ارب روپے خرچ ہوں گے۔

نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے اویس لغاری نے بتایا کہ ملک بھر میں مجموعی طور پر 14 ہزار فیڈرز ہیں، جن میں سے تقریباً 3 ہزار 400 ایسے ہیں جہاں بجلی چوری کی شرح زیادہ ہے۔ ان علاقوں میں بجلی کے نقصانات کو کم کرنے کے لیے سالانہ بنیادوں پر اقتصادی لوڈشیڈنگ کی جاتی ہے۔

وفاقی وزیر کے مطابق ان ساڑھے تین ہزار کے قریب فیڈرز پر دو سے 12 گھنٹے تک لوڈشیڈنگ کا شیڈول جاری رہے گا۔ تاہم حکومت کا مقصد موجودہ طریقہ کار کو تبدیل کرکے ایسا نظام متعارف کرانا ہے جس میں بجلی چوری کرنے والے صارفین کی وجہ سے بل ادا کرنے والے صارفین کو بجلی سے محروم نہ ہونا پڑے۔

اویس لغاری نے کہا کہ اقتصادی لوڈشیڈنگ کا مستقل حل یہ ہے کہ پورے فیڈر کی بجلی بند کرنے کے بجائے ٹرانسفارمر کی سطح پر لوڈشیڈنگ کی جائے۔ اس طریقہ کار کے تحت جس صارف نے بجلی کا بل ادا کیا ہوگا اسے بجلی فراہم کی جائے گی، جبکہ بجلی چوری یا بل ادا نہ کرنے والے صارف کو بجلی کی فراہمی روکی جاسکے گی۔

انہوں نے بتایا کہ وزیراعظم شہباز شریف نے تقریباً 60 ارب روپے کی لاگت سے 3 ہزار 400 فیڈرز کو ٹرانسفارمر کی سطح پر لوڈشیڈنگ کے نظام میں منتقل کرنے کا پروگرام ایک سال کے اندر مکمل کرنے کی ہدایت کی ہے اور اس منصوبے پر کام شروع کردیا گیا ہے۔

وفاقی وزیر کے مطابق پاکستان میں یہ پہلی مرتبہ ہوگا کہ بجلی کی لوڈشیڈنگ فیڈر کے بجائے ٹرانسفارمر کی سطح پر کی جائے گی۔ منصوبے کو اگلے سال اگست تک مکمل کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔

اویس لغاری نے بتایا کہ رواں سال اپریل میں بھی ملک میں بجلی کی لوڈشیڈنگ کا مسئلہ پیدا ہوا تھا۔ اس وقت پانی سے بجلی کی پیداوار کم تھی، جبکہ ایران اور امریکا کے درمیان جنگ کے باعث گیس کی فراہمی سے متعلق معاملات بھی متاثر ہوئے تھے۔

انہوں نے کہا کہ اضافی ایل این جی کا انتظام کیے جانے کے بعد 28 اپریل کو لوڈشیڈنگ کا سلسلہ ختم ہوگیا تھا، جبکہ مئی، جون اور جولائی کے دوران بھی بجلی کی صورتحال بہتر رہی۔ اس دوران قطر کے ساتھ معاہدے کے تحت گیس کے جہاز حاصل کیے گئے، جبکہ آبنائے ہرمز میں پیدا ہونے والے مسائل کے دوران بھی ملک میں بجلی کی فراہمی برقرار رکھنے کے لیے عالمی منڈی سے مہنگی گیس خریدی گئی۔

وفاقی وزیر نے بتایا کہ عالمی منڈی میں گیس کی طلب بڑھنے کے باعث اس کی قیمت میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ قطر سے معاہدے کے تحت حاصل ہونے والا ایک گیس کا جہاز تقریباً 3 کروڑ ڈالر میں دستیاب ہوتا ہے، جبکہ اسی مقدار کی گیس عالمی منڈی سے فوری خریدنے پر تقریباً 8 کروڑ 50 لاکھ ڈالر خرچ ہوسکتے ہیں۔

اویس لغاری کے مطابق حکومت کے سامنے دو راستے ہیں، ایک یہ کہ مہنگی گیس خرید کر بجلی کی پیداوار بڑھائی جائے اور دوسرا یہ کہ رات کے اوقات میں محدود لوڈشیڈنگ کی جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ دن کے وقت بجلی چوری سے زیادہ متاثرہ علاقوں کے علاوہ ملک میں کہیں لوڈشیڈنگ نہیں کی جارہی۔

انہوں نے بتایا کہ لاہور کے رائیونڈ میں صبح اور دوپہر کے اوقات میں دو، دو گھنٹے لوڈشیڈنگ کی اطلاعات سامنے آئی ہیں، جبکہ رات کے وقت گیس کی کمی کے باعث چند روز تک تین، تین گھنٹے بجلی بند کی گئی۔ تاہم گزشتہ دو راتوں کے دوران بجلی کی طلب میں کمی آنے کے باعث لوڈشیڈنگ کا دورانیہ ایک سے ڈیڑھ گھنٹے تک محدود ہوگیا ہے۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ ملتان اور فیصل آباد میں بھی موسم کی صورتحال کے باعث بعض دنوں میں دو سے ڈھائی گھنٹے تک لوڈشیڈنگ ہوئی، تاہم ملک کے کسی بھی علاقے میں 24 گھنٹے بجلی بند نہیں کی جارہی۔

اویس لغاری نے کہا کہ گرمیوں کے موسم میں بجلی کے زیادہ استعمال کے باعث ٹرانسفارمرز پر اضافی بوجھ پڑتا ہے، جس سے بعض اوقات معمولی نوعیت کی خرابیاں بھی پیدا ہوجاتی ہیں۔ ایسے حالات میں ٹرانسفارمر کی مرمت یا تبدیلی کے لیے متعلقہ فیڈر کی بجلی کچھ دیر کے لیے بند کرنا پڑتی ہے۔

انہوں نے خبردار کیا کہ اگر مہنگی گیس خرید کر 24 گھنٹے بجلی فراہم کی جائے تو 300 سے 400 یونٹ ماہانہ بجلی استعمال کرنے والے صارفین کو اکتوبر میں 10 سے 15 ہزار روپے تک اضافی بل ادا کرنا پڑسکتا ہے، جبکہ بجلی کی فی یونٹ قیمت میں بھی 5 سے 6 روپے تک اضافہ ہوسکتا ہے۔

وفاقی وزیر کے مطابق حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ ملک کے زرمبادلہ کے ذخائر کو محفوظ رکھا جائے اور بجلی کی قیمت کو بھی ایک خاص حد میں برقرار رکھا جائے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ عالمی حالات معمول پر آنے اور گیس کی فراہمی بہتر ہونے کے بعد بجلی کی صورتحال بھی مزید بہتر ہوجائے گی۔

سولر بجلی کے حوالے سے اویس لغاری نے کہا کہ سولر پینلز کی قیمت کا براہ راست تعلق حکومت سے نہیں، تاہم حکومت نے ملک میں شمسی توانائی کے فروغ میں کوئی رکاوٹ پیدا نہیں کی۔ ان کے مطابق بجلی کی خرید و فروخت کے موجودہ نظام میں تبدیلی کے باوجود سولر پینلز کی تنصیب کا سلسلہ جاری ہے۔

انہوں نے شہریوں کو مشورہ دیا کہ وہ بیٹریوں میں سرمایہ کاری پر بھی غور کریں، کیونکہ شام کے مہنگے اوقات میں بیٹری سے بجلی استعمال کرنے کے ذریعے بجلی کے اخراجات کم کیے جاسکتے ہیں۔ ان کے مطابق شام کے اوقات میں بجلی کے زیادہ نرخوں سے بچنے کے لیے بیٹری کا استعمال ایک دانشمندانہ اقدام ہوسکتا ہے۔

وفاقی وزیر نے بتایا کہ وزیر دفاع خواجہ آصف کی جانب سے بھی ایک صارف کے گاؤں میں ٹرانسفارمر خراب ہونے اور اس کی مرمت کے عوض بجلی کی تقسیم کار کمپنی کے ملازمین کو 80 ہزار روپے دیے جانے کی شکایت سامنے آئی تھی۔

اویس لغاری نے کہا کہ انہوں نے خود خواجہ آصف سے بات کی اور معاملہ حل کردیا گیا، جبکہ متعلقہ عملے کی غلطی پر سخت کارروائی بھی کی گئی۔

انہوں نے اعتراف کیا کہ بجلی کے شعبے میں بدعنوانی مکمل طور پر ختم نہیں ہوئی، تاہم حکومت نے گزشتہ ڈھائی سال کے دوران مختلف اصلاحات کے ذریعے صورتحال میں نمایاں بہتری لانے کی کوشش کی ہے۔

وفاقی وزیر کے مطابق حکومت نے صنعتوں کے لیے بجلی کے نرخ 18 سینٹ سے کم کرکے 11 سینٹ کیے ہیں، جبکہ بجلی کے شعبے میں ٹیکس دہندگان پر عائد تقریباً 1100 ارب روپے کا بوجھ کم کرکے 397 ارب روپے تک لایا گیا ہے۔

انہوں نے مزید بتایا کہ بجلی کے شعبے کے نقصانات بھی 580 ارب روپے سے کم کرکے 325 ارب روپے تک لائے گئے ہیں۔

نئے صوبوں کے قیام کے حوالے سے اویس لغاری نے کہا کہ پاکستان کو لسانی یا قومیتی بنیادوں پر تقسیم نہیں کیا جانا چاہیے، تاہم انتظامی ضروریات کے تحت نئے صوبوں کے قیام پر اتفاق رائے پیدا کیا جاسکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کی یکجہتی، اتحاد اور مستقبل کے لیے ضروری ہے کہ ہر شہری کی پہلی شناخت پاکستانی ہو، اس کے بعد وہ بلوچ، پشتون، سندھی، پنجابی یا کسی دوسری قوم اور ذات سے تعلق رکھتا ہو۔ ان کے مطابق مستقبل میں نئے صوبوں کے حوالے سے جو بھی فیصلہ ہو، وہ انتظامی بنیادوں پر ہونا چاہیے اور پاکستان کو اسی بنیاد پر نئے انتظامی یونٹس کی ضرورت ہے۔

اویس لغاری نے کہا کہ بہاولپور کا معاملہ دیگر علاقوں سے کچھ مختلف ہے، کیونکہ جب بہاولپور ریاست پاکستان کا حصہ بنی تھی تو اس کے ساتھ ایک معاہدہ کیا گیا تھا۔ تاہم بعد میں ون یونٹ کے قیام اور دوبارہ صوبوں کی تشکیل کے وقت بہاولپور کو اس سابقہ حیثیت میں تسلیم نہیں کیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ ن کا اس معاملے پر مؤقف واضح ہے کہ بہاولپور کو اس کی شناخت ملنی چاہیے۔ ان کے مطابق بہاولپور کے حوالے سے یہ مطالبہ کسی زبان یا قومیت کی بنیاد پر نہیں ہے، کیونکہ وہاں سرائیکی بولنے والوں کے ساتھ ساتھ ملک کے دیگر علاقوں سے آنے والے بڑی تعداد میں لوگ بھی آباد ہیں۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ جنوبی پنجاب کا معاملہ بھی کسی لسانی یا قومیتی بنیاد پر نہیں بلکہ انتظامی بنیادوں پر دیکھا جانا چاہیے۔ ان کے مطابق جنوبی پنجاب میں بلوچ، اردو بولنے والے، سرائیکی، پنجابی، آرائیں، جاٹ اور دیگر مختلف برادریوں کے لوگ آباد ہیں، اس لیے اس علاقے کو کسی ایک قومیت سے جوڑنا درست نہیں۔

اویس لغاری نے کہا کہ نئے صوبوں کے قیام کے معاملے پر بدقسمتی سے وہ اتفاق رائے برقرار نہیں رہ سکا جو پہلے موجود تھا۔ ان کے خیال میں شاید پاکستان تحریک انصاف یہ نہیں چاہتی کہ اس معاملے کا سیاسی فائدہ یا کریڈٹ مسلم لیگ ن کو ملے، اسی وجہ سے وہ اس کی کھل کر حمایت نہیں کررہی۔

انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ ن کے منشور میں بہاولپور، جنوبی پنجاب اور ہزارہ کے حوالے سے واضح مؤقف موجود ہے۔ اگر ملک میں مزید انتظامی یونٹس کے قیام پر بحث ہورہی ہے تو اسے بھی قومی بحث کا حصہ بنانے میں کوئی حرج نہیں۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ کراچی سمیت دیگر علاقوں کے عوام سے بھی رائے لی جاسکتی ہے کہ وہ اپنے علاقوں کے انتظامی ڈھانچے اور عوامی نمائندگی کے حوالے سے کیا چاہتے ہیں۔ ان کے مطابق صرف صوبائی اسمبلیوں کو عوامی خواہشات کے اظہار کا واحد ذریعہ سمجھنے کے بجائے شفاف طریقے سے عوام کی رائے جاننے کے دیگر طریقوں پر بھی غور کیا جاسکتا ہے۔

ریفرنڈم کے امکان سے متعلق سوال پر اویس لغاری نے کہا کہ انہوں نے اس حوالے سے آئینی شقوں کا تفصیلی جائزہ نہیں لیا، اس لیے وہ کوئی ایسی بات نہیں کرنا چاہتے جو درست نہ ہو۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ یہ معاملہ بھی قومی بحث کا حصہ بن سکتا ہے کہ عوام کی رائے کس طریقے سے حاصل کی جائے اور کون سا طریقہ عوام کے لیے قابل اعتماد ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ مختلف تجاویز اور امکانات پر پارلیمان میں صحت مند قومی بحث کے ذریعے اتفاق رائے پیدا کیا جاسکتا ہے، جس کے بعد آئندہ کے اقدامات طے کیے جاسکتے ہیں۔

اویس لغاری نے کہا کہ نئے انتظامی یونٹس کے قیام کے ساتھ صوبائی مالیاتی کمیشن اور بلدیاتی انتخابات جیسے معاملات بھی انتہائی اہم ہیں۔ قومی مالیاتی کمیشن کے ذریعے صوبوں کو ملنے والے وسائل کی تقسیم کے نظام میں مزید بہتری اور شفافیت لانے کی ضرورت ہے۔

انہوں نے بتایا کہ جنوبی پنجاب میں مسلم لیگ ن اس وقت بھی بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کررہی ہے، تاہم وسائل کی تقسیم کے نظام میں مزید بہتری اور شفافیت لائی جائے تو عوام کی خواہشات کو عملی شکل دینے میں مزید مدد مل سکتی ہے۔

وفاقی وزیر کے مطابق صوبائی مالیاتی کمیشن، بلدیاتی انتخابات اور دیگر متعلقہ معاملات پر تفصیلی بحث کے بعد قومی اتفاق رائے کے ساتھ آگے بڑھا جاسکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں اس وقت ضرورت ہے کہ نئے صوبوں اور انتظامی یونٹس کے معاملے پر سیاسی سطح پر کھل کر بحث کی جائے، پارلیمان میں بھی اس پر گفتگو ہو اور قیادت کی جانب سے جو فیصلہ کیا جائے، وہ اس کے ساتھ کھڑے ہوں گے۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.