تازہ ترین

مشرق وسطیٰ کے ممالک اپنے مستقبل کے فیصلے خود کریں، شی جنپنگ

0

قاہرہ: چین کے صدر شی جنپنگ نے مشرق وسطیٰ کے ممالک پر زور دیا ہے کہ وہ خطے کے لیے نیا سیکیورٹی نظام تشکیل دیں، اپنے معاملات میں بیرونی مداخلت کو مسترد کریں اور اپنے مستقبل سے متعلق فیصلے خود کریں۔ انہوں نے فلسطین کے مسئلے کو مشرق وسطیٰ کے تنازع کا بنیادی مرکز قرار دیتے ہوئے اس کے جامع اور منصفانہ حل پر زور دیا ہے۔

چینی سرکاری خبر رساں ادارے کے مطابق صدر شی جنپنگ نے یہ بات قاہرہ میں اپنے مصری ہم منصب عبدالفتاح السیسی کے ساتھ اعلیٰ سطح کے مذاکرات کے دوران کہی۔

ملاقات میں چینی صدر نے مشرق وسطیٰ میں طاقت کے استعمال، جانبداری اور غلبے کی پالیسیوں کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ خطے میں مشترکہ سلامتی کے لیے جامع حل تلاش کرنا ضروری ہے۔

شی جنپنگ نے کہا کہ مسئلہ فلسطین مشرق وسطیٰ میں جاری تنازعات کا بنیادی مرکز ہے اور اسے نظر انداز یا پس پشت نہیں ڈالا جاسکتا۔ ان کے مطابق خطے میں پائیدار امن کے قیام کے لیے فلسطینی مسئلے کا مناسب حل ناگزیر ہے۔

چینی صدر نے اقوام متحدہ کے مؤثر کردار کی حمایت کرتے ہوئے بیرونی طاقتوں پر زور دیا کہ وہ مشرق وسطیٰ کے معاملات میں دوہرے معیار کو ترک کریں اور بین الاقوامی قوانین اور اصولوں کا یکساں اطلاق یقینی بنائیں۔

انہوں نے کہا کہ مشرق وسطیٰ کے عوام کو اپنے معاملات کا خود مالک ہونا چاہیے اور خطے کے ممالک کو باہمی احترام اور اچھے ہمسائیگی کے اصولوں کے تحت اپنی سلامتی کا نیا ڈھانچہ تشکیل دینا چاہیے۔

صدر شی جنپنگ نے خطے میں نئے سیکیورٹی نظام کے قیام کے لیے چار نکاتی تجویز بھی پیش کی۔ انہوں نے کہا کہ مشرق وسطیٰ کے ممالک کو سلامتی کے حوالے سے اپنے اندرونی محرکات اور صلاحیتوں کو بروئے کار لانا چاہیے۔

انہوں نے سلامتی کے مسائل سے نمٹنے کے لیے مربوط اور جامع طریقہ کار اختیار کرنے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ خطے کے استحکام کے لیے اقتصادی اور ترقیاتی بنیادوں کو مضبوط بنانا ضروری ہے، جبکہ اس مقصد کے لیے عالمی برادری کے درمیان رابطے اور تعاون کو بھی فروغ دیا جانا چاہیے۔

مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی اور آبنائے ہرمز میں پیدا ہونے والی صورتحال کے تناظر میں چینی صدر نے بین الاقوامی بحری راستوں کی سلامتی کی اہمیت بھی اجاگر کی۔

شی جنپنگ نے کہا کہ چین خطے کے ممالک کے ساتھ مل کر بین الاقوامی بحری راستوں کی سلامتی یقینی بنانے کے لیے کام کرنے کو تیار ہے۔

آبنائے ہرمز میں جاری کشیدگی عالمی توانائی کی منڈی اور تیل کی ترسیل کے حوالے سے اہم تشویش کا باعث بنی ہوئی ہے۔ امریکی اور ایرانی کشیدگی کے باعث اس اہم بحری راستے سے گزرنے والی جہاز رانی بھی متاثر ہوئی ہے، جس کے اثرات عالمی تجارت اور توانائی کی ترسیل پر پڑنے کا خدشہ ظاہر کیا جارہا ہے۔

صدر شی جنپنگ کا مصر کا موجودہ دورہ ایک دہائی بعد ہورہا ہے، جس کے دوران چین اور مصر کے درمیان اقتصادی، سفارتی اور دفاعی تعاون کو مزید وسعت دینے پر بھی توجہ دی جارہی ہے۔

دونوں ممالک نے حالیہ برسوں میں بنیادی ڈھانچے، توانائی، صنعت، نقل و حمل اور ٹیکنالوجی سمیت مختلف شعبوں میں تعاون کو وسعت دی ہے۔

مصر کی تزویراتی اہمیت اس لیے بھی نمایاں ہے کہ وہ بحیرہ احمر اور نہر سویز کے ذریعے عالمی تجارتی راستوں کے ایک اہم مقام پر واقع ہے۔ نہر سویز عالمی تجارت اور سمندری نقل و حمل کے لیے انتہائی اہم راستہ تصور کی جاتی ہے۔

چین اور مصر کے درمیان سفارتی تعلقات 1956 میں قائم ہوئے تھے، جو کئی دہائیوں بعد بھی برقرار ہیں۔ 2014 میں دونوں ممالک نے اپنے تعلقات کو جامع تزویراتی شراکت داری کی سطح تک بڑھایا تھا۔

حالیہ ملاقات میں چینی صدر کی جانب سے مشرق وسطیٰ کے ممالک کو اپنے سیکیورٹی نظام کی تشکیل اور فلسطین کے مسئلے کے جامع حل پر زور دینا خطے میں جاری کشیدگی کے دوران چین کی بڑھتی ہوئی سفارتی سرگرمیوں کی عکاسی کرتا ہے۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.