اسلام آباد: وزیراعظم شہباز شریف نے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) میں پیش آنے والے آتشزدگی کے واقعے کی عبوری تحقیقاتی رپورٹ کی روشنی میں کیے گئے فیصلوں پر فوری اور مؤثر عملدرآمد یقینی بنانے کی ہدایت کردی ہے۔
کرغزستان سے واپسی کے فوراً بعد وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت صحت کے شعبے اور پمز میں آتشزدگی کے واقعے سے متعلق ہنگامی اجلاس ہوا، جس میں وفاقی وزیر صحت سید مصطفیٰ کمال، وزیر اقتصادی امور احد خان چیمہ، سیکریٹری صحت کیپٹن (ر) محمد محمود اور پمز کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر ڈاکٹر محمد سلمان نے شرکت کی۔
اجلاس کے دوران وزیراعظم کو ملک میں صحت کے شعبے کی مجموعی صورتحال اور پمز میں پیش آنے والی آتشزدگی کے واقعے کی تحقیقات میں ہونے والی پیش رفت کے بارے میں تفصیلی بریفنگ دی گئی۔
شرکاء کو بتایا گیا کہ عبوری تحقیقاتی رپورٹ کی روشنی میں وزیراعظم کی جانب سے دی جانے والی ہدایات پر عملدرآمد یقینی بنایا جارہا ہے اور متعلقہ ادارے اس حوالے سے اقدامات کررہے ہیں۔
وزیراعظم شہباز شریف نے واضح کیا کہ آتشزدگی کے واقعے میں مجرمانہ غفلت کے مرتکب افراد کے ساتھ کسی قسم کی رعایت نہیں برتی جائے گی۔ انہوں نے ذمہ دار عناصر کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی یقینی بنانے کی ہدایت بھی کی۔
وزیراعظم نے وفاقی وزیر صحت اور سیکریٹری صحت کو ہدایت کی کہ وہ ایک دن کے وقفے سے ذاتی طور پر پمز کا دورہ کریں اور اسپتال میں انتظامی و طبی سہولیات کی بہتری کے لیے کیے جانے والے اقدامات کی نگرانی کریں۔
انہوں نے پمز میں مریضوں کو فراہم کی جانے والی طبی سہولیات مزید بہتر بنانے اور اسپتال میں تمام ضروری حفاظتی اقدامات مکمل طور پر نافذ کرنے کی بھی ہدایت کی۔
وزیراعظم نے کہا کہ اسپتالوں میں مریضوں اور عملے کی حفاظت کو ہر صورت یقینی بنایا جانا چاہیے اور کسی بھی غفلت یا کمزوری کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔
اجلاس میں صحت کے شعبے میں جاری اصلاحات کا بھی جائزہ لیا گیا۔ وزیراعظم نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ صحت کے شعبے میں اصلاحاتی عمل کو مزید تیز کیا جائے تاکہ عوام کو بہتر اور معیاری طبی سہولیات کی فراہمی یقینی بنائی جاسکے۔
وزیراعظم کی ہدایات کے بعد پمز میں حفاظتی انتظامات، طبی سہولیات اور انتظامی امور کی نگرانی مزید سخت کیے جانے کا امکان ہے، جبکہ عبوری تحقیقاتی رپورٹ کی سفارشات پر عملدرآمد بھی تیز کیا جائے گا۔